Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

یک قطبی دنیا کا زوال اور نئی صف بندیوں کا آغاز

تاریخ گواہ ہے کہ جس فرد، گروہ، سلطنت یا حکومت نے ظلم، جبر اور انسانیت کی تذلیل کو اپنا شعار بنایا، وہ بالآخر اپنے ہی اعمال کے بوجھ تلے دب گئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا یہ قول آج بھی عالمی سیاست کی ایک اٹل حقیقت محسوس ہوتا ہے کہ:کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا

سوشل میڈیا اور نوجوان نسل

ہماری روزمرہ زندگی میں ایک نئی اصطلاح شامل ہو چکی ہے، اسکرین ٹائم۔ اب یہ صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی بنتی جا رہی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل دیکھنا اور رات کو سونے سے پہلے آخری نظر بھی اسی پر ڈالنا ایک عام معمول بن چکا ہے۔ بظاہر یہ معمولی بات لگتی ہے، مگر جب یہی

اے میرے اہلِ کشمیر، بیس کیمپ کے مکینو!

اے میرے اہلِ کشمیر! اے میرے بیس کیمپ کے مکینو! اے حریت کے نام پر نسلوں سے قربانیاں دینے والو، ذرا رک کر سوچو۔ سازشوں کے جال میں اس طرح نہ الجھ جانا کہ وقتِ عصر روزہ ہی توڑ بیٹھو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ تمہارے بارے میں یہ لکھے کہ ’’گرگے ناداں سجدے میں جب وقتِ قیام آیا‘‘۔

مریم نواز شریف اور غلام حیدر وائیں

بھارتی ریاست کرناٹک میں بیجا پور اور مہاراشٹر میں احمد نگر مغلیہ دور کی دو اہم سلطنتیں تھیں، جنوبی ہند کی بیٹی سلطانہ چاند بی بی باری باری ان دونوں ریاستوں کی حکمران رہی، ایک ریاست (بیجا پور) اس کے آبائو اجداد کی تھی اور دوسری(احمد نگر)اس کے سسرالی خاندان کی، اپنے دور حکمرانی میں اس نے مغلیہ سلطنت کی

’’چاردن،ایک صدی کاسبق‘‘

(گزشتہ سے پیوستہ) دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ 88 گھنٹوں کی جنگ دراصل ایک ریفرنس پوائنٹ،ایک حوالہ بن چکی ہے،ایک ایسانمونہ جس کی روشنی میں مستقبل کی جنگوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس جنگ نے دنیاکوایک بارپھریاددلایاکہ جنوبی ایشیا اب بھی ایک نازک توازن پرقائم ہے،جہاں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے شعلے کو جنم دے سکتی ہے

پاک چین دوستی اور خوشحال پاکستان

پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے تقدیر کے اس موڑ پر کھڑی رہی ہے جہاں خواب بھی بڑے دیکھے جاتے ہیں اور آزمائشیں بھی شدید آتی ہیں۔یہ وہ خطہ ہے جسے قدرت نے جغرافیائی اہمیت، تہذیبی وقار، تاریخی ورثے اور روحانی عظمت سے نوازا۔ یہی وہ سرزمین ہے جس نے تہذیبوں کی آمد و رفت دیکھی، تجارتی قافلوں کی چاپ سنی،

کالم پروفائل