پاکستان کا مقدمہ کون سنے گا ؟
جج صاحب نے فرمایا ’’لاپتہ کرنے والوں کے لئے سزائے موت کا قانون بنایا جانا چاہیے‘‘ درست فرمایا، اختلا ف کی گنجائش ہی نہیں۔ صرف اس لئے نہیں کہ جج کی رائے سے اختلاف توہین عدالت اور قابل گردن زدنی
جج صاحب نے فرمایا ’’لاپتہ کرنے والوں کے لئے سزائے موت کا قانون بنایا جانا چاہیے‘‘ درست فرمایا، اختلا ف کی گنجائش ہی نہیں۔ صرف اس لئے نہیں کہ جج کی رائے سے اختلاف توہین عدالت اور قابل گردن زدنی
میڈیا کے بکائو کرداروں کی زبانیں کف اڑانے لگیں ، سوشل میڈیا کے نقارخانے میں وطن عزیز کے خلاف گالیوں ، سازشوں اور بہتان طرازیوں کی طومار بندھ جائے تو ارد گرد ضرور دیکھنا چاہئے کہ یہ سب کس بات
یقینا ً بہت بڑی تعداد میں ارباب دانش بھی موجود تھے،جو قوم کو حقیقت سے روشناس کروانے کی کوشش میں رہے ، لیکن ہٹلر کی لاف و گزاف نے ایسا سماں باندھا کہ 1944 تک جرمنی میں اکثریت ہٹلر کے
آج کل مصنوعی ذہانت کا بڑ اچرچا ہے، کہا جاتا ہے کہ گھنٹوں کاکام منٹوں میں ہوجاتا ہے ، ریسرچ کے حوالہ سے یہ ٹیکنالوجی بہت کارآمد بتائی جاتی ہے،اختصار کے طور پر اسے’’ اے آئی‘‘ بھی کہا جاتا ہے
عاصمہ جہانگیر پاکستان کی سول سوسائٹی اور عدالتی تاریخ کا ایک متحرک مگرمتنازعہ کردار رہی ہیں،مذہب،ریاست اورخاندانی ومشرقی اقدارہمیشہ ان کا ہدف رہیں۔ اب ان کے نام پر ہرسال ہونےوالی کانفرنس وہی کردار ادا کر رہی ہے ۔ دو روز
سیاسی کلٹ کے مفادات ، گروہی تعصبات اور احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان گزشتہ دوسال سے ایک بار پھر دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہے ۔ پس منظر میں جھانکا جائے تو عدل کا بودا نظام ، انگریز
صاحب اختیار ہو آگ لگادیاکرو شکر ہے ، وزارت داخلہ کو بھی سچ بولنے کا خیال آگیا ،تین ماہ سے میڈیا اور عدالتوں میں جھوٹ بول کر، سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس کی بندش سے انکار کرکے اپنی مٹی پلید کروانے
(گزشتہ سے پیوستہ) بھارت کی عالمی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ کینیڈا اور امریکہ سمیت دنیا کی 5 انٹیلی جنس ایجنسیز کا اتحاد بھارت کو کینیڈا اور امریکہ میں دہشت گردی کا مرتکب قرار دے
المیہ یہ ہے کہ بھارت دہشت گردی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے ، پوری دنیا میں تھو تھو ہو رہی ہے ، یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے ، جب مودی اور اس کا خونی
(گزشتہ سے پیوستہ) بھارت جیسا دہشت گرد اور کمینہ دشمن آج پاکستان کو للکارنے اور دھمکی دینے کی جرأت کر رہا ہے تو اس کی پہلی وجہ یہی بے بصیرت اورمعذرت خواہانہ پالیسی ہے جبکہ ہمارا تجربہ یہ ثابت کرتا