تدبیر کا زوال، تقدیر کا ظہور
(گزشتہ سے پیوستہ) عینی ایئربیس کی خالی ہونے کی خبرپرکانگریس نے حکومتِ وقت کوآڑے ہاتھوں لیا۔ان کے مطابق یہ فیصلہ سٹریٹجک ناکامی اور سفارتی پسپائی ہے۔ان کے بیانات سے واضح ہوا کہ انڈیاکے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی یہ فیصلہ
(گزشتہ سے پیوستہ) عینی ایئربیس کی خالی ہونے کی خبرپرکانگریس نے حکومتِ وقت کوآڑے ہاتھوں لیا۔ان کے مطابق یہ فیصلہ سٹریٹجک ناکامی اور سفارتی پسپائی ہے۔ان کے بیانات سے واضح ہوا کہ انڈیاکے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی یہ فیصلہ
تاریخ کی بساط پرجب قومیں اپنی چالیں چلتی ہیں توبعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب تقدیرخودمہرہ بن کرکھیلتی ہے۔تاجکستان میں عینی ایئربیس کی خالی ہونے کی کہانیانڈیاکی سٹریٹجک ناکامی،تقدیرکی کروٹ ہے یامودی کے تکبرکا بدترین نتیجہ؟تاریخ کے صفحات جب
(گزشتہ سے پیوستہ) کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہاپسند عناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے
(گزشتہ سے پیوستہ) ہائی کمیشنوں کے باہرجمع ہوتے ہجوم محض افراد کاہجوم نہیں،یہ جذبات کی مجتمع صورت ہوتی ہے۔ ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک،انڈین مشنزکے قریب احتجاج اورپتھراکے واقعات سامنے آئے۔ پتھر ااوراس کے بعدگرفتاری ورہائی کاسلسلہ یہی بتاتا ہے کہ
جب دل کی بستیوں میں اضطراب ٹھہرجائے، جب شہروں کی گلیاں صدائے فریادبن جائیں،اور جب امتِ مسلمہ کے چہرے پر فکرکی سلوٹیں گہری ہوجائیں،توتاریخ خاموش نہیں رہتی وہ پکاربن کربول اٹھتی ہے۔آج بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ابھرتی ہوئی
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستان کی دفاعی صنعت پہلی بارشمالی افریقا میں ایک نمایاں اوربراہِ راست اسٹریٹجک کھلاڑی کے طورپرابھررہی ہے،تاہم لیبیاکی داخلی تقسیم،بین الاقوامی اجارہ داراسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات، اوراقوام متحدہ کی غیرموثرمگرموجود پابندیاں اس عمل کوحساس بنا دیتی
(گزشتہ سے پیوستہ) لیبیا2011ء سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کاشکارہے،جس کے تحت کسی بھی عسکری سامان کی ترسیل کیلئے اقوام متحدہ کی منظوری درکارہے۔ دسمبر 2024ء میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس پابندی کوغیرمؤثر قراردیا،تاہم قانونی حیثیت اب
(گزشتہ سے پیوستہ) مثنویِ معنوی دراصل ایک فکری دستاویزہے جوانسان کے باطن،معاشرے اورکائنات کے باہمی تعلق کوواضح کرتی ہے ۔ رومی ؒکاانسان جامدنہیں،متحرک ہے۔ وہ ہرلمحہ بن رہاہے، ٹوٹ رہاہے، سنور رہا ہے۔عشق اس عملِ تخلیق کاایندھن ہے۔رومیؒ کے نزدیک
خواتین وحضرات،اربابِ فکرودانش اور نظریاتی بصیرت کے امین ساتھیو انسانی تاریخ محض سلطنتوں کے عروج وزوال،جنگوں کے شور،اورسیاست کے ہنگاموں کانام نہیں؛یہ دراصل روح کی اس مسلسل جستجوکی داستان ہے جوخاک سے اٹھ کرافلاک کی طرف دیکھتی ہے۔کبھی یہ جستجوعشق
(گزشتہ سے پیوستہ) اقوامِ متحدہ اورانسانی حقوق کی تنظیمیں جن کے دفتروں کی دیواروں پرانسانیت کے عظیم اصول آویزاں ہیں،وہ مودی کے ان بیانات پریا تو خاموش ہیں یاایسے دیکھ رہی ہیں جیسے کسی ناول کے کردارجومکالمہ نہیں، فقط تماشاکرتے