اڈیالہ اور سیاست لازم و ملزوم
گزشتہ 76 برسوں میں حالات نے رہنمائوں کے ساتھ جو کچھ کیا،جو سلوک روا رکھا،ہماری تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی ماری گئی۔پاکستان ہی کے سب
گزشتہ 76 برسوں میں حالات نے رہنمائوں کے ساتھ جو کچھ کیا،جو سلوک روا رکھا،ہماری تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی ماری گئی۔پاکستان ہی کے سب
شیخ السلام محمد تقی عثمانی معروف عالم دین اور مذہبی سکالر ہیں۔ان کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو پاکستان ہی نہیں،دنیا بھر میں موجود ہیں۔مفتی تقی عثمانی بے شمار دینی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔دین سے متعلق
کسی سیاسی جماعت پر پابندی مستحسن اقدام نہیں۔حکومت نےجب سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی بات کی ہے۔پورا ملک شور کی زد میں ہے۔تجزیے ہو رہے ہیں۔تبصرے کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے
وفاقی حکومت ہو،یا ملک کی چاروں صوبائی حکومتیں،یہ ایسے وقت بنیں جب معیشت کا پہیہ جام اور روپے کی قدر مسلسل گھٹ رہی تھی۔معیشت نہ چل رہی ہو تو امور مملکت چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں
عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟ اس پر خوب بحث ہو رہی ہے اور سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے۔بانی پی ٹی آئی جب سے پابند سلاسل ہوئے ہیں،باہر کی دنیا سے ان کا
کہتے ہیں سیاسی عدم استحکام ہو تو معاشی استحکام کبھی نہیں آ سکتا۔اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ بات ہر روز ہوتی ہے۔مگر مجال ہے کسی اپوزیشن لیڈر پر کبھی اس کا کوئی اثر ہوا ہو۔جبکہ معاشی و سیاسی
پاکستانی سیاست میں ہمیشہ ہی سے چند خاندانوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ان میں ایک بھٹو خاندان بھی ہے جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستانی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔سندھ سے تعلق رکھنے والا
پولیس،سرکار(حکومت)کاذیلی ادارہ ہےجس کا کام جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورت حال کو برقرار اورقابو میں رکھنا ہے۔پولیس اپنے فرائض پولیس آرڈر 2002 ء کے تحت ادا کرتی ہے۔پولیس آرڈر 2002ء چاروں صوبوں میں نافذالعمل ہے۔پولیس
سیاست کا فلسفہ بھی عجیب ہے۔اس میں کسی پڑھائی لکھائی یا ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔کوئی بھی کسی رکاوٹ کے بغیر کامیاب ترین سیاستدان بن سکتا ہے۔گزشتہ 76 سالوں سے ہم پاکستان کی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ان دہائیوں میں
مشہور ضرب المثل ہے نیم حکیم خطرہ جاں مراد یہ کہ ناتجربہ کار سے ہمیشہ کام بگڑنے کا اندیشہ رہتا ہے اور ایسا شخص جوکسی سند،ڈگری اور تجربے کے بغیرطب جیسے پیشے سے جڑ جائے تو اندازہ کیجئے کتنی انسانی