مخدوم جاوید ہاشمی ایک ’’باغی‘‘یا بھٹکا ہوا راہی !
اس کی جمالیاتی حس بھی بہت تیز تھی ،تحریر کی مہارت بھی رکھتا تھا اور محبت کا جذبہ بھی ، وہ چاہتا تو یونیورسٹی کے دنوں میں ایک بھر پور رومان پروان چڑھا کر ’’جھوٹ روپ کے درشن‘‘جیسی کتاب مرتب کرکے راجہ انور کی طرح اردو ادب میں شہرت دوام حاصل کر سکتا تھا ،۔مگر اس نے اپنے لئے ایک