Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

مخدوم جاوید ہاشمی ایک ’’باغی‘‘یا بھٹکا ہوا راہی !

اس کی جمالیاتی حس بھی بہت تیز تھی ،تحریر کی مہارت بھی رکھتا تھا اور محبت کا جذبہ بھی ، وہ چاہتا تو یونیورسٹی کے دنوں میں ایک بھر پور رومان پروان چڑھا کر ’’جھوٹ روپ کے درشن‘‘جیسی کتاب مرتب کرکے راجہ انور کی طرح اردو ادب میں شہرت دوام حاصل کر سکتا تھا ،۔مگر اس نے اپنے لئے ایک

ایمان،فولاد اور ریاست

یہ تاریخ کااٹل فیصلہ ہے کہ کچھ رشتے زمانے کے کٹہرے میں تولے نہیں جاتے،وہ زمانے کوتولتے ہیں۔کچھ تعلقات سفارت خانوں کی فائلوں میں نہیں پلتے،وہ دلوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتے ہیں۔تاریخِ اقوام میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جومحض معاہدوں،مفادات یا سفارتی بیانات کے مرہونِ منت نہیں ہوتے،بلکہ وہ ایمان، تہذیب، قربانی اور مشترکہ مقدس اقدارکے تاروں سے

آخری دور کے دجالی دھوکوں کا ظہور

قرآنِ مجید مستقبل کو تفریح کے طور پر بیان نہیں کرتا اور نہ ہی فتنہ و فریب کو افسانہ بناتا ہے۔ وہ انسانیت کے سامنے اخلاقی، روحانی اور سماجی قوانین و نمونے رکھتا ہے جن کے ذریعے ہر دور میں حق و باطل میں امتیاز ممکن ہو۔ ان میں سب سے خطرناک نمونہ منظم فریب کا ہیوہ زمانہ جب باطل

بسنت؟وزیر اعلیٰ کا شوق سلامت رہے

خبر یہ ہے کہ بسنت کے موقع پر پتنگ بازی یعنی گڈی اور ڈور خرید و فروخت پر لاہوریوں نے صرف چار دنوں میں ایک ارب 22 کروڑ خرچ کر ڈالے ، بادشاہ نے کہا، شہر کو آگ لگا کر تماشے کا شوق پورا کرو، تو سبھی شاہ پرستوں نے سر جھکا کر کہا کہ حضور کا شوق سلامت رہے۔یہ

نرانکاری بازار میں چھپی تار یخ

راولپنڈی صدر کی چکاچوندسے نکلتے ہی جب میں پرانے شہر کی طرف بڑھا تو معروف راجہ بازار سے متصل ایک تنگ گلی نے مجھے زندگی سے چھلکتے ہوئے ایک بازار میں پہنچا دیا۔ دکانوں کے باہر لٹکے ہوا سے لہراتے رنگ برنگے دوپٹے،کپڑے کے تھانوں کی خوشبو، زمین چھونے کو بیتاب پھولوں کی لڑیاں اور گجرے۔ چاٹ اور پکوڑوں کی

قومی بیانیہ اور امن کا سفر

تاریخی تناظر میں پاکستان ہمیشہ سے جغرافیائی، سیاسی اور معاشرتی چیلنجز کا شکار رہا ہے۔قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک داخلی اور خارجی خطرات نے قومی استحکام اور سلامتی پر اثر ڈالا ہے۔تاریخی طور پر پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قیام کے دن سے ہی داخلی اور بیرونی چیلنجز کا شکار رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ملک

کالم پروفائل