Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

بینظیر بھٹو کی برسی پر برطانیہ میں کیا ہوا؟

محترمہ بینظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی کے موقع پر برطانیہ میں جو کچھ دیکھنے کو ملا وہ نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ پیپلز پارٹی کی اوورسیز سیاست پر کئی سنجیدہ سوالات بھی چھوڑ گیا ایک ایسی عظیم رہنما جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے آمریت، جلاوطنی، قید و بند اور

تاریخ کے ترازو پر عدل اور سیاست

جب دل کی بستیوں میں اضطراب ٹھہرجائے، جب شہروں کی گلیاں صدائے فریادبن جائیں،اور جب امتِ مسلمہ کے چہرے پر فکرکی سلوٹیں گہری ہوجائیں،توتاریخ خاموش نہیں رہتی وہ پکاربن کربول اٹھتی ہے۔آج بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ابھرتی ہوئی کشیدگی محض بین الاقوامی سیاست کاباب نہیں،بلکہ دلوں کے زخموں،یادوں کے کرب اور معاہدوں کے بکھرے ہوئے کاغذوں کی کہانی

پاکستان ، بحران سے استحکام تک کا سفر

جوں جوں 2025 ء کے آخری دن خاموشی سے رخصت ہو رہے ہیں اور 2026 ء کی پہلی کرن افق پر نمودار ہونے کو ہے، یہ لمحہ محض رسمی امیدوں کا نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ اُس سال پر نگاہ ڈالنے کی دعوت ہے جس نے ایک قوم کی سمت بدل دی۔ کیلنڈر ہر

انتباہ کی گھنٹی

اگر تاریخ کے کسی باب کو ایک سطر میں سمیٹا جائے تو شائد لکھا جائے گا کہ سال2025 ء جنگوں کا سال تھا۔ جب دنیا کے نقشے پر سرخ نشان بڑھتے گئے۔ امن کی لکیریں مٹتی گئیں اور انسان ایک بار پھر اس سوال کے سامنے کھڑا نظر آیا کہ کیا ہم واقعی مہذب ہو چکے ہیں یا صرف ہتھیار

نفاذ اسلام مفتی عبدالرحیم اور گالیاں

پاکستان میں دینِ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قیامِ پاکستان کے بنیادی مقاصد میں شامل ایک نظریاتی وعدہ ہے، جسے آئینِ پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اسی تناظر میں جب مذہبی طبقات، دینی جماعتیں یا علماء کرام اس مطالبے کو دہراتے ہیں تو یہ کسی فرد یا حکومت کے خلاف ذاتی عناد نہیں

کیا خدا موجود ہے ؟

انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی سوال ایسا ہو جس نے عقل، ایمان، فلسفہ اور سائنس کو بیک وقت مضطرب رکھا ہو، جتنا اس سوالِ نے کہ کیا خدا موجود ہے؟ یہ سوال نہ نیا ہے، نہ محض الحادی ذہن کی اختراع، اور نہ ہی مذہب دشمنی کا استعارہ۔ یہ سوال سقراط کے مکالموں میں بھی ملتا ہے، ابنِ رشد

کالم پروفائل