Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

اسلام آباد کانفرنس‘ پارلیمانی سفارت کاری کا نیا دور

اقوام کے تعلقات میں اصل طاقت ہمیشہ تلوار یا معیشت نہیں بلکہ مکالمے اور فہم کی قوت رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں نے اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا تبھی امن کے امکانات جنم لیتے رہے۔ اسی سوچ کو عملی شکل دیتے ہوئے پاکستان نے 10 سے 12 نومبر 2025 ء تک اسلام آباد

ابراہیم معاہدہ ، پاک افغان مناقشے کی اصل بنیاد

بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز نے عالمِ اسلام کے سیاسی و فکری نظم پر ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ اس کے بنیادی نقشے ہی تبدیل کر کے رکھ دیئے۔ امتِ مسلمہ، جو کبھی ایک ہی اشتراک عمل یعنی وحدت امہ کی ہر سازش کے خلاف مزاحمت کا محور و مرکز تھی لخت لخت ہوکر فقط سیاسی

جبر سے بغاوت تک

(گزشتہ سے پیوستہ) چیرین دورجے کی پکارمیں آئینی روح بولتی ہے، چیرین دورجے لاکرک کی زبان میں جوآگ ہے،وہ مایوسی نہیں،ایمان ہے۔وہ کہتا ہے:ہم جرم نہیں کررہے،وعدہ یاددلارہے ہیں ،وعدہ خلافی کے جواب میں گولی نہیں،انصاف چاہیے۔یہ صدا گویا آئین کے بطن سے اٹھتی ہے۔وہ حکومت سے نہیں، انصاف سے مخاطب ہیںکہ وعدے پورے کرو،ہم صرف وعدے مانگتے ہیں،رعایتیں نہیں۔

ایوب خان‘ کمانڈر ان چیف سے وزیراعظم اور صدرِپاکستان تک

تاریخ میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو کتابوں اور سرکاری دستاویزات کے اوراق میں خاموشی سے دفن رہتی ہیں۔ یہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں، یہاں تک کہ کوئی محقق ان کے انکشاف کا ذریعہ بنے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی ابواب اسی نوعیت کے ہیں، جہاں واقعات کی عمومی تعبیر ان کی حقیقی گہرائی

لاوارث اور سہولیات سے ماورا کراچی اور ای چالان کا عذاب

کراچی وہ شہر ہے جو کبھی روشنیوں کا مرکز، تجارت کا دل اور پاکستان کی معیشت کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا مگر آج بد انتظامی، بے توجہی اور غفلت کا شکار ایک بے یار و مددگار اور لاوارث بستی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ شہر جو ملک کو سب سے زیادہ محصولات دیتا ہے، بنیادی سہولیات سے

کراچی خوش ہے؟

کراچی ’’ناراض‘‘ نہیں،بلکہ صوبائی حکومت اور بیورو کریٹس کی بے پناہ شفقتوں کے زیر سایہ بہت ’’خوش‘‘ہے،مگر کیوں؟کئی کئی ایکڑ کے سرکاری محلات اور بنگلوں میں مفت بسیرا کرنے والے پیپلز پارٹی کے حکمران اور بیوروکریٹس کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر ہزاروں لوگوں کو بے روز گار کر کے ’’غریبوں‘‘کی ’’بدعائیں‘‘سمیٹ رہے ہیں تو اس

کالم پروفائل