Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

بھارت،پاکستان کے نام پر اقلیتوں کا جینا حرام

بھارت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان سے تعلق کے جھوٹے الزامات لگاکرایک طرف پاکستان کو بدنام کر رہا ہے تو دوسری جانب اسی الزام پر مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کو جبر اور ظلم سے دبانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ بزرگ مسلمان رہنمائوں کو سازشی مقدمات میں پھنساکر ان کی ساکھ خراب کررہاہے۔ سیاسی تحزیہ کاروں کا

وطن کی شہ رگ کا سودا نہیں ہوگا

دنیاکی سیاست آج ایک ایسے موڑ پر آکھڑی ہے جہاں قوموں کی تقدیریں صرف جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ سفارت کے ایوانوں، معیشت کے زینوں اوراتحادکی فصیلوں پرلکھی جارہی ہیں۔یہ وہ وقت ہے کہ جب برصغیرکی فضا میں ایک نیاطوفان اٹھ رہا ہے اوریہ طوفان محض ہوا کا جھونکا نہیں ،بلکہ وہ آندھی ہے جوکمزورخیموں کو اکھاڑپھینکتی ہے اورمضبوط

مولانا عبد القدوس خان قارنؒ کا سفرِ آخرت

گزشتہ جمعۃ المبارک کو برادرِ عزیز مولانا حافظ عبد القدوس خان قارنؒ اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک عرصہ سے بیمار تھے مگر معمولات مسلسل جاری رہے، جمعرات کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حسبِ معمول اسباق پڑھائے اور جمعۃ المبارک کو صبح نمازِ فجر پڑھائی۔ جمعہ سے قبل خطبۂ

مرد آہن : سپہ سالار کو امریکی جریدے کا خراج تحسین

معرکہ حق میں بھارت پر پاکستان کی عسکری اور تذویراتی برتری ایک ناقابل تردید حقیقت بن کر ابھری ہے۔ اس فیصلہ کن معرکے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت کی بدولت جس طرح پاکستان نے بھارت کے تکبر کو خاک میں ملایا، موجودہ دور میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔پاکستان کی اس برتری کا تذکرہ

سیاست میں کیا کھویا، کیا پایا؟

پاکستان کی سیاست میں ہم نے جو کچھ دیکھا ہے شاید ہی کسی غیر ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو جن نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا،دوران اسیری ان کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا بیرک میں جو اذیتیں دی گئیں تاریخ سیاست کا وہ سیاہ باب ہے۔ بھٹو سب

مصنوعی ذہانت اور علم کی بنیاد رکھنے والے عظیم مسلمان

انسانی تہذیب اچانک انقلابات کی پیداوار نہیں، بلکہ صدیوں کے علمی سرمائے کا تسلسل ہے۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت (AI) اور عمومی مصنوعی ذہانت (AGI) کی بات کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ تسلیم کریں کہ یہ علوم دراصل ریاضی، منطق، الگورتھم، طب، فلسفہ اور سائنس پر قائم ہیں۔ اسلام کے سنہری دور (آٹھویں سے چودھویں صدی)میں ایسے کئی

کالم پروفائل