Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے جاری، امداد کے منتظر 21 افراد سمیت مزید 36 فلسطینی شہید

غزہ(نیوز ڈیسک)اسرائیل کی تازہ بمباری سے امداد کے منتظر 21 فلسطینیوں سمیت مزید 36فلسطینی شہید ہو گئے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک سے مزید 4 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کے بعد اسرائیلی جنگ کے آغاز سے اب تک غذائی قلت سے ہونے والی مجموعی اموات کی تعداد 201 ہو گئی

فلسطین، استقامت سے ریاست تک

(گزشتہ سے پیوستہ) غزہ کی تباہ شدہ گلیوں سے اٹھنے والادھواں ابھی مکمل طورپرچھٹانہیں،لیکن دنیاکے سیاسی افق پرایک نئی روشنی کی کرن ضرورپھوٹی ہے۔ فرانس، اسپین، آئرلینڈ،ناروے اوردیگر یورپی ممالک کی جانب سے فلسطین کوباضابطہ ریاست تسلیم کیے جانے کا اعلان، بلاشبہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔برسوں سے عالمی برادری جس اسرائیلی بیانیے کے سائے میں خاموش کھڑی تھی،اب اس کے

ہیروشیما کے 80 سال اور غزہ میں ظلم و بربریت

آٹھ اگست 2025 ء کو ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے 80 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ 6اگست 1945 ء کو امریکی فضائیہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ’’لٹل بوائے‘‘ نامی ایٹم بم گرایا، جس نے چند لمحوں میں لاکھوں جانیں خاکستر کر دیں۔ تین روز بعد ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم پھینکا گیا، جس نے انسانی تاریخ

قوم پرستی اوراِسلامی تعلیمات

نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس کے ہاں پائی جاتی ہے اور باقی سب کمتر ہیں۔ یہی تفاخر اور غرور آگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں، مقابلوں

لندن سے ایک خط جاوید اختر اور جہنم

پاکستان کے دبستان ادب شہر بہاولپور کے معروف شاعر فیضان عارف جو گزشتہ تیس بتیس سال سے لندن میں مقیم ہیں جو امریکہ سمیت تمام یورپی ممالک میں مشاعرے پڑھ کر داد وصول کر چکے ہیں انہوں نے کل لندن سے مجھے ایک خط لکھاجس میں انہوں نے اس ہندوستانی مسلمان شاعر کے متعلق کچھ ذکر کیا جو اس نے

اوورسیز پاکستانی، قوم کے گمنام ہیرو

1947 ء میں پاکستان کے قیام کے بعد سے وطنِ عزیز کے وہ بیٹے اور بیٹیاں جو دیارِ غیر میں آباد ہوئے، اپنے ملک کے ساتھ گہری وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیلے ہوئے یہ اوورسیز پاکستانی صرف زرمبادلہ بھیجنے کے ذریعے ہی نہیں، بلکہ فلاحی کاموں، قومی تشخص کو اجاگر کرنے، سفارتی مہمات اور

کالم پروفائل