Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

روح، نفس اور اختیار انسان کا باطنی سفر اور آزمائش

انسان، اللہ کی ایک مقدس اور سربستہ حقیقت ہے مٹی سے بنایا گیا، مگر الٰہی نور سے منور، خواہشات کا حامل، مگر اپنے رب کے قرب کا متلاشی۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے:اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی۔(سورہ الحجر 15:29) بے شک نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے۔(سورہ یوسف 12:53) یہ دو طاقتیں روح اور

مودی راج کا معاشی فریب، خودکشیوں کا بحران

بھارت میں نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی حکومت کا ’چوتھی بڑی معیشت‘ بنانے کا دعویٰ ایک فریب ثابت ہوا ہے۔ عوام بھوک، قرض اور معاشی ناہمواری کے بوجھ تلے دب کر خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مودی کا نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ صرف سرمایہ داروں جیسے اڈانی اور امبانی کی ترقی کا ضامن

ڈی ایچ اے اسلام آباد کے فیز 5 میں سیلابی پانی میں بہہ جانے والے کرنل اور ان کی ڈاکٹر بیٹی کی نعشیں نہ مل سکیں،ریسکیو آپریشن روک دیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک   ) اسلام آباد نجی ہائوس سوسائٹی برساتی نالے میں گاڑی بہہ جانے کا واقعہ ۔ ریسکیو آپریشن 10گھنٹے بعد روک دیا گیا ۔ ریسکیو زرائع کے مطابق ریسکیو آپریشن اندھیرے اور پانی کے بہاؤ کی وجہ سے مزید جاری نہیں رکھا جا سکتا ۔ رالپنڈی اسلام آباد ریسکیو پولیس اور نیوی کے غوطہ خوروں نے بھی

پاکستانی پارلیمان کا ’دارُالامراء ‘ !

کہنے کو تو برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یاسینٹ کو ’’دارُالامرا‘ کہاجاتا ہے لیکن یہ جھُومر اپنے حقیقی معنی ومفہوم اور بھرپور صداقت کے ساتھ صرف ہماری سینٹ کی پیشانی پرہی سجتا ہے۔ جمعیت العلمائے اسلام کے ترجمان حافظ حمداللہ نے ہفتہ بھر قبل انکشاف کیا تھا کہ خیبرپختون خوا میں سینٹ کا رُکن بننے کے لئے ایک ووٹ کی

وحدتِ امت: خواب یا امکان؟

(گزشتہ سے پیوستہ) اسلام کاسیاسی نظام شورائیت، عدل، مساوات اوراحتساب پرمبنی تھا۔مگرآج؟ہرملک اپنی ریاست ،ہرریاست اپنے مفادمیں گم۔قومیں قومی مفادات میں الجھی ہیں،اورامت کے تصور کا جنازہ نکل چکاہے اورامت مسلمہ اجتماعی سیاسی انتشارمیں مبتلاہے۔ نہ کوئی سعدؓ بن معاذ، نہ کوئی عمرؓ باقی ہے قیادت کی جگہ،دولتِ بے کار فقط اخلاقی زوال اورروحانی بے حسی کایہ عالم ہے کہ

موجودہ حکومت کے خلاف عمران خان کی تحریک

کون کیا سوچتا ہے آئیے پہلے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ حکومت والے سوچتے ہیں کہ ہمارا کام چل رہا ہے ہمیں کیا ضرورت ہے عمران خان سے بات کرنے کی۔ پنجابی زبان میں کہتے ہیں ’’ساڈی کیڑی ویلنے اچ باں آئی اے‘‘ مطلب ہمیں ایسی کیا مجبوری ہے کہ ہم عمران خان یا تحریک انصاف کی ڈیمانڈز کو اکاموڈیٹ

کالم پروفائل