پنجاب حکومت گڈ گورنس یانمائشی حکمرانی
انسانی تاریخ درحقیقت تہذیبوں کے عروج و زوال کی تاریخ ہے اور اس کی ہر منزل پر ایک سوال ہم سے بارہا سرگوشی کرتا ہے، ترقی کیا ہے؟ کیا یہ صرف بلند و بالا عمارات، شاہراہیں اور انڈسٹریل زونز کی
انسانی تاریخ درحقیقت تہذیبوں کے عروج و زوال کی تاریخ ہے اور اس کی ہر منزل پر ایک سوال ہم سے بارہا سرگوشی کرتا ہے، ترقی کیا ہے؟ کیا یہ صرف بلند و بالا عمارات، شاہراہیں اور انڈسٹریل زونز کی
پاکستان کی معیشت جب 1947ء میں ایک نوزائیدہ ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھری تو اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اقتصادی خودمختاری اور مالی استحکام کا تھا۔ ابتدائی سالوں میں یہ ملک زرعی معیشت پر
بین الاقوامی تعلقات جذبات سے نہیں، مفادات سے جڑتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کی کہانی بھی انہی مفادات کی کشمکش سے عبارت ہے۔ وقتا فوقتا امریکہ نے پاکستان کو اہم اتحادی کہا، اربوں ڈالرز دئیے، لیکن
دنیا میں ماحول کو بگاڑ نے والے عوامل کا نوے فیصد حصہ صرف چند صنعتی ممالک کا پیدا کردہ ہے ۔ امریکہ، چین، بھارت ، روس ،یورپی یونین ۔یہ وہ طاقتیں ہیں جنہوں نے فوسل فیول،کارخانوں، گلوبل ٹریڈ اوربے قابو
سیاسی تحریکیں مٹی میں دفن ہو سکتی ہیں،لیکن نظریات مٹائے نہیں جا سکتے۔حکومتیں آتی ہیں، جاتی ہیں، لیکن بیانیے اپنی جگہ پر موجود رہتے ہیں ۔چاہے ان پر کتنا ہی ملبہ ڈال دیا جائے۔تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جہاں
اقوامِ عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف صرف زمینی حقائق یا سفارتی دبائو کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کئی جہتوں پر مشتمل تاریخی، معاشی، ثقافتی
پاکستان کی سیاست میں کئی ایسے کردار گزرے جو بظاہر غیر متوقع ،خاموش مزاج اور غیر متحرک دکھائی دیئے ،مگر انہیں اقتدار کی ایسی طاقت ودیعت کی گئی جو شاید ان کے اپنے لئے بھی باعث حیرت تھی اور اس
انصاف کی تلاش انسان کی تہذیبی و تمدنی اور فکری خواہش رہی ہے کہ کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا ’’ حکومت ظلم کے ساتھ تو قائم رکھی
وطن عزیز کی ریاستی ساخت میں عدلیہ وہ ستون ہے جو انصاف، قانون کی حکمرانی، اور شہری آزادیوں کا محافظ تصور کیا جانا چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا کا عدالتی نظام نہ صرف شدید عدم توازن کاشکار ہے بلکہ اس
میرا دماغ مائوف ہے ،میں سوچنے سے عاری ہوچکا ہوں،میں 64 سالہ پیر تسمہ پا،جس کے دست بازو میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ اپنے قلم سے روانی سے عبارت تحریر کروں اس لئے لیپ ٹاپ پر انگلیوں سے بصد