پہلی اور آخری حقیقت
بہت عرصہ بعد شہر سے باہر جانا ہوا ،ایک ہفتے کی ہوا خوری کے بعد گھر آیا ہوں تو میز پر مختلف نوعیت کی کتب کا ایک ڈھیر لگا ہے ۔عبداللہ عبداللہ کی کتاب ’’میں کون ہوں؟‘‘(Who am I) حضرت
بہت عرصہ بعد شہر سے باہر جانا ہوا ،ایک ہفتے کی ہوا خوری کے بعد گھر آیا ہوں تو میز پر مختلف نوعیت کی کتب کا ایک ڈھیر لگا ہے ۔عبداللہ عبداللہ کی کتاب ’’میں کون ہوں؟‘‘(Who am I) حضرت
وفاق جو کر رہا ہے وہ کر ہی رہا ہے اب پنجاب سازشوں کے جال بچھانے کی پیش بندی پر تلا ہواہے ،فارم سنتالیس کی پیداوار حکومت خونخوار نظروں سے اس کا تعاقب کررہی ہے جس کے کندھے ہی نہیں
وہ بنیادی طور پر دہنی سکالر ہیں، محراب و منبر کے وارث مگر انہوں نے اس سب سے دست کشی کرتے ہوئے سیاسی مدبر کا کردار اپنا لیا ہے لیکن اس میں بھی اب کچھ اور رنگ بھرنے لگے ہیں۔
باباجی شورش کاشمیری نے کہا تھا ’’انسان فطرتا افسانہ ساز ہے ۔وہ افسانوں سے محبت کرتا ہے ، افسانوں کو ترتیب دیتا ہے ،افسانوں سے کھیلتا ہے اور ظاہر ہے کہ افسانہ و حقیقت میں اتنا ہی بعد ہے جتنا
انسان وقت کی تلوار سر پر لٹکائے زندگی بسر کر رہا ہے وہ بے بس ہے یا بے بس کردیا گیا ہے۔ جب سے میری طبیعت خراب رہنے لگی ہے اور میری اہلیہ اپنی چار سال کی بقایا ملازمت سے
صحافی وہ ہوتا ہے جو اپنی معروضی صورت حال کا عہد نامہ تحریر کررہا ہوتا ہے اور سچا صحافی وہ ہوتا ہے جو عہد کے حق پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہوتا اور مہر لگانے کے لئے وہ ایسی
(گزشتہ سے پیوستہ) کنکارڈیا ہوٹل کے ٹیریس سے اس پار پہاڑگہرے اندھیرے تلے دب چکے تھے سولہ گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ نے ان کے حسن کے سارے جلوئوں کو ڈھانپ لیا تھا ،تاہم ہوٹل کا روم جنریٹر کی مدد
(گزشتہ سے پیوستہ ) دور دراز شمالی علاقہ جات میں بکھرے حسن وجمال کو بیان کرنے کے لئے کسی کلاسیکل داستان نگار کاقلم چاہیئے یا عصر حاضر کے سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کا طرز احساس کہ جنہیں ہر
جانا تو ٹھہر ہی گیا تھا،یہ طے کرنا باقی تھا کہ کہاں جانا ہے اور پھر فاطمہ بیٹی نے سکردو کے جہاز کا ٹکٹ بک کرا کر میسج کردیا ،تاہم پہلا پڑائو شہر اقتدار تھا جہاں خوبصورت نظموں کے شاعر
بات چھوٹی سی تھی مگر ایسی بڑھی کہ پتنگڑ سے بھی بڑھ گئی ۔روگ ایک تھا مگر پھیلائو اتنا کہ کسی سے سمٹ ہی نہیں پارہا ۔طول و عرض infinity کاروپ دھار گئے ہیں ،ناپے کون کہ اس کے لیے