ملک کو گڑھے میں کون ڈال رہا ہے؟
سقراط کو زہر کا پیالہ کیوں دیا گیا.؟ آخر ایتھنز کے اہل اقتدار کو اس سے تکلیف ہی کیا تھی؟ سقراط کوئی لیڈر نہ تھا جنگجو نہ تھا اس کا سیاسی اثر و رسوخ اتنا نہ تھا کہ وہ اہل
سقراط کو زہر کا پیالہ کیوں دیا گیا.؟ آخر ایتھنز کے اہل اقتدار کو اس سے تکلیف ہی کیا تھی؟ سقراط کوئی لیڈر نہ تھا جنگجو نہ تھا اس کا سیاسی اثر و رسوخ اتنا نہ تھا کہ وہ اہل
یہ میرے زمانہ طالب علمی کی بات ہے جب دبنگ صحافی، نڈر اور بے لاگ صحافی احمد بشیر کی خاکوں پر مشتمل کتاب’’جو ملے تھے راستے میں‘‘ منصہ شہود پر آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی رفعتوں کو چھو
موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے مرحوم امانت علی خان جب ظہیر کاشمیری کی یہ غزل گاتے تھے تو کیف و مستی حیات میں ڈوبے ہوئے لوگ ،فکرو
جب سیاستدان زمینی حقائق کا ادراک نہ رکھتے ہوں ،جب حمراں رعایا کی کیفیات سمجھنے سے عاری ہوں۔جب ملک کاسرمایہ(نوجون)بے روز گاری کی نذر کردیا جائے ، جب قوم کے بچوں کوجھوٹ پر مشتمل نصاب پڑھایا جائے،جب نظام عدل کو
خالد خورشید وزیراعلیٰ گلگت بلتستان تھے،ان پر جعلی ڈگری کا کیس بنا،خالد خورشید کو یقین تھا کہ میں اس کیس میں سرخرو ہو جائوں گاکیونکہ ان کی ڈگری اصلی تھی،لیکن کام دکھانے والوں نے دکھا دیا۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے
اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی ملک کی واحد منظم ترین دینی سیاسی جماعت ہے جس نے ہیرے جواہرات پیدا کئے ، اس کے افکارو نظریات کی تاریخ آب زر سے لکھی جانے والی ہے ۔اس کے بانی
ہم بے قدرے لوگ ہیں ۔افکار و نظریات سے واسطہ نہیں رکھتے ، ان سے زندگی کرنے کا سلیقہ نہیں سیکھتے۔ہم بنجر ذہنوں کے ساتھ جی رہے ہیں ہم اپنے فرائض سے تو منہ موڑے ہوئے ہیں ہی، حد یہ
برطانوی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری نے ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات میں درخواست کی کہ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، ریٹائرمنٹ کے بعد سوائے پنشن کے کوئی ذریعہ آمدنی نہیں۔ کرائے کے
ظلم و جبر کے ماحول میں زندگی بسر کرنا کتنا مشکل ہے ، یہ پاکستان کے غریب عوام خصوصاً متوسط طبقے کی حالت زار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یوں کہنے کو پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، اس
سرمایہ دارنہ نظام نے زندگی کی اصلی معنویت کو بے معنی کرکے رکھ دیا ہے۔یہاں تک کہ اب انسانیت کا مفہوم بھی انسانیت نہیں رہا ، بے حسی اور کم ظرفی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر سلمان آصف صدیقی (ای