تاریخ ان کا ذکر کن الفاظ میں کرے گی؟
آغاشورش کاشمیری نے کہا تھاعیاش قومیں چراغ سحری ہوتی ہیں ۔جب ان کی رگوں میں لہب ولعب رچ جاتا ہے تو پھر ان کی ہڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں ، خون نچڑنے لگتا اور روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے
آغاشورش کاشمیری نے کہا تھاعیاش قومیں چراغ سحری ہوتی ہیں ۔جب ان کی رگوں میں لہب ولعب رچ جاتا ہے تو پھر ان کی ہڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں ، خون نچڑنے لگتا اور روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے
لوگوں نے ایسا خدا دریافت کررکھا ہے جس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ لوگوں کو ایسا رسول ہاتھ آگیا ہے جو صرف اس لئے آیا تھا کہ ان کی ساری بداعمالیوں کے باوجود خدا کے یہاں ان کا یقینی سفارشی
مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا۔تاریخ عالم کی سب سے بڑی ناانصافیاں میدان جنگ کے بعدعدالت کے ایوانوں میں ہی ہوئی ہیں۔دنیا کے مقدس بانیان سے لے کر سائنس کے محققین اور مکتشفین تک کوئی بے باک اورحق پسند جماعت
ایک بادشاہ سیر وتفریح پر نکلا‘ جاتے جاتے کہیں دور ہی نکل گیا دیکھا تو ایک گھر ہے جس کا مالک سخی طبیعت کا تھا اس نے بادشاہ کی خوب مہمان نوازی کی بادشاہ کی نظر جب پھانسی پر لٹکے
ہمیں کمرے میں بٹھانے والا نہ جانے کمرے کا بلب روشن کرنا کیوں بھول گیا تھا ، شاید قدرت کی طرف سے مجھے ایک صاحب علم کے چہرے کا نور دکھانا مقصود تھا ۔وہ عصا ٹیکتے ہوئے کمرے میں داخل
زمانہ قدیم میں فلاسفہ کے درمیان بحث مباحثہ اور مکالمہ کا رواج عام تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ زوال پذیر ہوتا چلا گیا ، یہی وجہ ہے کہ علم کی اہمیت بھی پامالی کا شکارہونے لگی ، تاہم بعض
امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق نے خوب کہا ہے کہ ’’ہمارا معاشرہ جذباتی لوگوں کامعاشرہ ہے،یہاں دھیمے لہجے میں سچ بولنے سے زیادہ اونچی آواز میں جھوٹ بولنے والے پریقین کیا جاتا ہے ۔‘‘ بڑے لوگ بڑی بات کرتے
فیصلہ ہو گیا ہے ، پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ جاتی امرہ سے اپنے دفتر تک آنے جانے کے لئے ہوائی سفر کریں گی یعنی ہیلی کاپٹر کے ذریعے آئیں جائیں گی اور تقریباً اڑھائی سے تین لاکھ روپے
زود نویسی عطائے ربانی ہوتی ہے اور پروفیسر ڈاکٹر مختار ظفر اس عطا سے مالامال ہیں، کوئی سال ایسا نہیں جس میں ان کی پانچ سات کتب مارکیٹ کی زینت نہ بنتی ہوں ۔شعروادب ہو یا تنقیدو تاریخ کوئی موضوع