دینی مدارس مفتی عبد الرحیم اور مولانا حنیف جالندھری
کیا گالم گلوج ،الزام تراشیوں اور دشنام طرازیوں کے ذریعے ’’مدارس‘‘ کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟جو خود ہی مولانا فضل الرحمن کو معاف کر کے پھر ان سے معافی بھی مانگ لے اسے مفتی عبد الرحیم کہتے ہیں، اس
کیا گالم گلوج ،الزام تراشیوں اور دشنام طرازیوں کے ذریعے ’’مدارس‘‘ کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟جو خود ہی مولانا فضل الرحمن کو معاف کر کے پھر ان سے معافی بھی مانگ لے اسے مفتی عبد الرحیم کہتے ہیں، اس
(گزشتہ سے پیوستہ) شام کے چوتھے بڑے شہر ھما کے مسلمانوں پر 1982 ء میں 27روزہ کرفیو کے دوران جو ظلم و ستم روا رکھا گیا اس کی ایک جھلک آپ ملاحظہ فرمائیں ۔ایک معاصر اخبار میں چھپے والی رپورٹ
وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن ایک دیرینہ ضرورت ہے جس کے لئے مختلف ادوار میں مدارس کی انتظامیہ، جید علماء کرام اور سیاسی
پتے پتے کی حرکت سے واقف رب، ذرے ذرے کی گنتی سے واقف رب، کیا تمہارے دل کے حال سے بے خبر ہو سکتا ہے؟ اس وسیع آسمان پر اڑتے پرندوں کے جھنڈ، جنہیں تمہاری نظریں بھی پوری طرح دیکھ
حضرت مولانا جلال الدین رومی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک کانٹا روتے ہوئے اللہ سے کہہ رہا تھا ’’میں نے صلحا کی زبان سے سنا ہے کہ آپ کا نام ستار العیوب ہے یعنی عیبوں و چھپانے والا، لیکن آپ
کیا کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی بے لگام سوشل میڈیا برگیڈ کے ذریعے ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے ’’پاکستان‘‘سے جیت جائے گا؟ہرگز نہیں،انہیں کوئی بتائے کہ ’’ریاست پاکستان‘‘ بڑی سخت جان ہے، دس لاکھ
قتل سینکڑوں افرادکا ہو یا 12افرادکا ،قتل تو قتل ہی کہلائے گا،قتل پارا چنار میں ہوں یا ڈی چوک میں،قتل سیاسی ،مذہبی کارکنوں کا ہو یا سیکورٹی اہلکاروں کا،قتل کو قتل اور قاتل کو قاتل ہی کہا جائے گا ،پارا
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اللھم بارِ ک لنا فِی شامِنا وفِی یمنِنا‘‘ (صحیح بخاری: 7094) یعنی رسول اللہ ﷺ نے شام کے لیے برکت کی دعا کی ہے۔ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:’’علیم بالشامِ فنہا صفو بلاد
حضرت محمد مصطفیﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی،ظلی،بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر،مرتد،زندیق اور
الحاد اور ارتداد دورِ حاضر کے اہم مسائل میں شامل ہو چکا ہے جو اسلامی معاشرے کو فکری اور اعتقادی چیلنجز دے رہا ہے۔ ’’الحاد‘‘دراصل خدا کے وجود کا انکار اور دینی تعلیمات کو جھٹلانے کا نام ہے، جبکہ ارتداد