سوشل میڈیا کے باعث دنیا گلوبل ویلج بن گئی
سوشل میڈیا نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے۔آپ اپنا پیغام،تصویر یا کوئی ویڈیو صرف ایک سکینڈ میں پوری دنیا میں پہنچا اور پھیلا سکتے ہیں۔یہ ایک مضبوط اور موثر ترین ذریعہ ابلاغ ہے۔اظہار رائے کا
سوشل میڈیا نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے۔آپ اپنا پیغام،تصویر یا کوئی ویڈیو صرف ایک سکینڈ میں پوری دنیا میں پہنچا اور پھیلا سکتے ہیں۔یہ ایک مضبوط اور موثر ترین ذریعہ ابلاغ ہے۔اظہار رائے کا
مزاحمت اسلامیہ، فلسطین کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم ہے۔شیخ احمد یاسین نے اس کی بنیاد 1987ء میں رکھی۔شیخ احمد یاسین اگرچہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو چکے ہیں‘لیکن انہوں نے فلسطین کی آزادی کا جو پیغام دیا
راجا پرویز اشرف پاکستانی سیاست کاوہ درخشندہ ستارہ ہیں۔جن کاشمار پاکستان پیپلز پارٹی کےسینئر ترین رہنمائوں میں ہوتاہے۔ سابق وزیراعظم اور سابق اسپیکر نیشنل اسمبلی رہ چکے ہیں۔انتہائی دھیمے لہجے کے سیاست دان ہیں۔کبھی غصے میں نہیں آتےجو بات بھی
کتاب کو علم و حکمت کا خزانہ کہا گیا ہے۔اس سے فکر کو جلا ملتی ہے۔کتاب ہی ہے جس سے سوچ کو وسعت ملتی ہے جبکہ اس کے مطالعہ سے انسان کی شخصیت میں نکھار آتا ہے۔جس کے سبب وہ
پی ٹی آئی میں اب فارورڈ بلاک کی باتیں ہونے لگی ہیں۔جماعت کئی دھڑوں میں تقسیم ہے۔جماعت کےاندرہی نہیں،سرعام بھی ایک دوسرے کےخلاف دشنام طرازی ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان باتوں کا چرچا ہے۔ایک طوفان سا بپا ہے جس
جس کے باعث زمین زیر آب آجائے اسے سیلاب کہتے ہیں جو اضافی پانی کے بہائو کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔سیلاب سے متعلق یورپی یونین کے تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کسی بھی علاقے میں محدود
کسی بھی معاشرے میں صحافی، شاعر، ادیب، ناول نگار یا کتاب لکھنے والا کوئی مصنف عزت کے اونچے درجے پر فائز ہوتا ہے۔اس کی تکریم صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو شعوری طور پر یہ علم رکھتا ہو کہ
پاکستان کی سیاست میں ہم نے جو کچھ دیکھا ہے شاید ہی کسی غیر ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو جن نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا،دوران اسیری ان کے ساتھ
زندگی میں کچھ فیصلے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انسان پل پل بہت سے صبر آزما لمحات سے گزرتا ہے،کبھی کبھی سب کچھ بھول کر آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہ سب مشکلیں، صبر آزما لمحات،دکھ اور غم
(گزشتہ سے پیوستہ) نوجوان نسل میں پائےجانےوالے جرائم میں سب سے زیادہ منشیات کی خرید و فروخت اور اس کا استعمال ہے۔نیز ڈکیتی جیسے جرائم میں بھی نوجوانوں کی اکثریت ملوث پائی جاتی ہے۔ نوجوانوں میں جرائم کی بڑی وجہ