Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

شوراورسکوت کے درمیان،طاقت کی نئی عالمی زبان

بین الاقوامی سیاست کے موجودہ مرحلے پر طاقت کااستعمال صرف عسکری یامعاشی دباتک محدودنہیں رہا،بلکہ خاموشی،تاخیراور ردِعمل سے اجتناب بھی پالیسی کے موثرہتھیاربن چکے ہیں۔ عالمی سیاست ہمیشہ محض بیانات،معاہدات یاجنگی محاذوں کاکھیل نہیں رہی؛یہ خاموشیوں،توقفات اورنظرنہ آنے والے فیصلوں کی تاریخ بھی ہے۔ 2026ء کے آغازمیں یہی خاموشی ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے بیچ سب سے بلندآوازبن کرابھری

مشکوک پتنگوں کی نگرانی

پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں راستے دھند میں لپٹے ہوئے ہیں اور سمتوں کا تعین مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ اجتماعی شعور کے زوال کی علامت ہے۔ ریاست، سیاست اور سماج تینوں ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں ہر قدم آگے بڑھانے کے بجائے

بیتے ہوئے دن

اگرچہ جنوری کے وسط میں یخ بستہ ہوائیں پوری شدت کے ساتھ چلتی ہیں اور پارہ نقط انجماد کے خطرناک حد تک قریب جھکتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر یہی وہ موسم ہوتا ہے جب یادیں غیر معمولی شدت کے ساتھ بیدار ہو جاتی ہیں۔ فضا کی سردی اپنے اندر یادوں کی ایک مانوس حرارت سمیٹے ہوتی ہے، جو ذہن

مسلمانوں کو طاقت بنانے کا حکم

آج کا مسلمان ایک ایسے دور میں سانس لے رہا ہے جہاں فکری انتشار، ذہنی دبائو اور عملی کمزوری نے اجتماعی قوت کو متاثر کر رکھا ہے۔ ہم اکثر زوال کے اسباب پر گفتگو کرتے ہیں، مگر ان قرآنی و نبوی ہدایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں طاقت، توازن اور استقامت کا راستہ دکھاتی ہیں۔ اسلام محض

اسلام، انصاف اور افغانستان کا نیا فوجداری ضابطہ

انسانیت کے ابتدائی ترین معاشروں سے لے کر آج کے جدید ریاستی نظام تک قانون کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جو طاقتور کے ہاتھ کو روکتا اور کمزور کے سر پر سایہ بنتا ہے۔ قانون وہ ضابطہ ہے جو معاشرے کو عدل، مساوات، وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قانون کا اولین مقصد یہ ہے کہ

بحران سے استحکام تک کا سفر

پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی تاریخ میں استحکام کی جستجو ایک ایسا سفر رہا ہے جو کبھی آسان نہیں رہا جہاں ہر دور میں قیادت کو نہ صرف داخلی چیلنجز بلکہ بیرونی دباؤ کا بھی سامنا رہا ہے ۔ آج جب وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ملکی استحکام کی راہ پر گامزن ہے تو یہ سفر

کالم پروفائل