بے یقینی کے دلدل میں کھڑی حکومت
مڑ کر دیکھنے کی عادت نہ ہو تو حالات بدلنے کی فرصت نہیں ملتی ، راستہ اپنا متعین کیا ہوا نہ ہو تو منزل نہیں ملتی ۔یقین کی دولت نہ ہو تو اعتماد کا دامن ہاتھ نہیں آتا ،رخ متعین
مڑ کر دیکھنے کی عادت نہ ہو تو حالات بدلنے کی فرصت نہیں ملتی ، راستہ اپنا متعین کیا ہوا نہ ہو تو منزل نہیں ملتی ۔یقین کی دولت نہ ہو تو اعتماد کا دامن ہاتھ نہیں آتا ،رخ متعین
پاکستانی سیاست میں بعض جملے خبر سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ یہ جملے بظاہر مختصر ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر کئی مفروضے، اندیشے اور سیاسی اشارے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ایک معروف صحافی کا یہ کہنا کہ ’’اب جو ہونے
گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جسے قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں کے عوام آج بھی بنیادی مسائل کے حوالے سے محرومیوں اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور کسی ایسے سیاسی رہبرو
اقتدار کے ایوانوں میں موسم ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔یہاں وفاداریاں بھی وقت کے ساتھ کروٹ لیتی ہیں اورغداری کے سرٹیفکیٹ بھی سیاسی معمولات کا حصہ ہے۔ پاکستان کی سیاست میں جب بھی طاقت کےمراکز کے درمیان فاصلے بڑھنے لگیں،
(گزشتہ سے پیوستہ) دوسری طرف پی ٹی آئی، جو اس وقت شدید سیاسی دبائو اور ریاستی جبر و استبداد کا سامنا کررہی ہے، ہراس معاملے پرحکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی جس سے جمہوری حقوق یا سیاسی انجینئرنگ کا
اے ایران! تمہاری جنگ اگر واقعی فقط امریکہ سے ہے تو پھر خلیج کی ان پرامن بستیوں کا کیا قصور ہے جہاں ہمارے مزدور اپنے بچوں کی بھوک سے لڑنے جاتے ہیں؟وہ دبئی کی بلند عمارتوں میں اینٹیں اٹھانے والے
اُردو صحافت کے اُفق پر ایک ایسا چراغ گل ہوگیا ہے جس کی روشنی صرف خبروں تک محدود نہ تھی بلکہ فکر، شعور، تہذیب، تاریخ اور قومی درد کی ایک پوری روایت اس کی ذات کامحور و مرکز تھی ۔
قومیں صرف جغرافیے سے وجود نہیں پاتیں، ان کی اصل شناخت ان کے فکری شعور، تہذیبی وقار، سیاسی بصیرت اور اجتماعی کردار سے تشکیل پاتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں فکر کمزور پڑ جائے، اصول مفادات کے ہاتھوں گروی رکھ
(گزشتہ سے پیوستہ) ہوا کا ہر جھونکا تو پہلے میری طرف موڑتی اور خود پسینے میں بھیگتی رہتی ماں! مجھے آج احساس ہوتا ہے کہ محبت صرف لفظ نہیں ہوتی یہ تو رات کے پچھلے پہر کسی ماں کے ہاتھ
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذاکرات کالفظ ہمیشہ امیداوربدگمانی کےدرمیان معلق رہا ہے۔ یہاں مکالمےاکثراُس وقت شروع ہوتےہیں جب سیاسی درجۂ حرارت حدِ انتہا کو پہنچ چکا ہو، ادارے دباؤ محسوس کررہے ہوں،معیشت کی نائو ہچکولے لےرہی ہواورعوام بےیقینی کے