امریکہ انڈیا خلیج اور پاک چین روس قربتیں؟
دروغ مصلحت آمیز کو آسمان رفعت تک پہنچانے کے لئے کچھ سچائیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔بین الاقوامی سیاست کی بساط پر بڑی طاقتوں کی صف بندیاں کس امر کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں؟ امریکہ انڈیا کےدرمیان پیدا
دروغ مصلحت آمیز کو آسمان رفعت تک پہنچانے کے لئے کچھ سچائیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔بین الاقوامی سیاست کی بساط پر بڑی طاقتوں کی صف بندیاں کس امر کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں؟ امریکہ انڈیا کےدرمیان پیدا
معروف برطانوی مئورخ ٹائن بی نے کہا تھا کہ ’’امریکہ ایک وسیع و عریض ملک ہے اور اسی وسعت کی وجہ سے وہاں سرحدی روح پیدا ہوئی۔اس وسیع خطے پر اپنی تاریخ کے آغاز میں ایک بنجر خطہ زمین کے
یاسین ملک صرف ایک فرد نہیں، بلکہ کشمیری عوام کی آزادی کی اس جدوجہد کا روشن چراغ ہیں جو سات دہائیوں سے جاری آزادی کی جدوجہد کا استعارہ ہیں۔ بھارت اگر انہیں بے پناہ صعوبتوں یا پھانسی کے ذریعے راستے
فلسفہ کے ماخذات ، فلاسفہ ،ان کے نظریات اور تصانیف کا سادہ مفہوم ،جاننے کے لئے ہمیشہ سے ترد کا سامنا رہا ہے جس کے ازالے کیلئے اب بہت سارے ذرائع موجود ہیں ،جن میں ایک بڑا ذریعہ چیٹ جی
پنجاب، برصغیر کی وہ زرخیز زمین جسے دریائوں کی گود نے ہمیشہ پناہ دی، مگر انہی دریائوں نے وقتاً فوقتاً اپنی طغیانی سے اس دھرتی کو شدید تباہ کاریوں سے بھی دوچار کیا۔ پنجاب کی معیشت چونکہ زیادہ تر زرعی
غالب فہمی پر مکالمہ نئی بات نہیں ہے، منشائے ادب سے آگہی رکھنے والے بیسویں صدی کے دانشوران علم و ہنر نے کہا کہ یہ صدی’’غالب‘‘کی صدی ہے ہم نے مان لیاکہ نہ ماننے والے گھاٹے کے سوداگر کہلاتے ہیں
الحمد للہ ہم نے یوم آزادی پورے جوش و جذبے سے منالیا ہماری شاہراہیں اور گلیاں کوچے تک گواہ ہیں کہ ہم نے کس طرح تہذیب و تمدن کے بخیے ادھیڑے ،معمولات زندگی کو پائوں تلے روند دینے میں کوئی
وہ لوگ جو معاشرے کو خوبصورت بنانے کا خواب دیکھتے ہیں، جو اسے ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے مہمیز لگاتے ہیں، خود بھی باطن و ظاہر کی خوبصورتی کا نمونہ ہوتے ہیں۔ ان
رات کا پچھلا پہر، خواب اور بیداری کی باریک لکیر پر ایک سنہری دھند تیرنے لگی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے قدم کسی نامانوس دنیا کی جانب بڑھتے جاتے ہیں، یہ نہ دنیا تھی نہ آخرت کا واضح منظر،
پاکستان کی تعمیراتی صنعت میں بحریہ ٹائون ایک ایسا نام ہے جو جدید رہائشی منصوبوں، پرتعیش طرزِ زندگی، اور اربوں روپے کے کاروباری سودوں کی علامت بن چکا ہے۔ اس کے بانی، ملک ریاض حسین، نے اپنی ذہانت، جرت اور