مسلم لیگ ن کے اندر کے حالات
کمال غمزہ و عشوہ تھا جس کی سحرناکی کے سائے تلے کامل نخوت کے ساتھ میاں نواز شریف وطن واپس آئے، ان کی پہلی یقین دہانی یعنی ان کے مقدمات سے انہیں پلک جھپکتے میں بریت مل گئی ، جلسے
کمال غمزہ و عشوہ تھا جس کی سحرناکی کے سائے تلے کامل نخوت کے ساتھ میاں نواز شریف وطن واپس آئے، ان کی پہلی یقین دہانی یعنی ان کے مقدمات سے انہیں پلک جھپکتے میں بریت مل گئی ، جلسے
ایک مرتبہ مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا تھا اور آج دلگرفتگی کے عالم میں مجھے وہی الفاظ دہرانے پڑ رہے ہیں کہ چند دل کے ٹکڑے ہیں جن کو صفحات پر بچھاناچاہتا ہوں،کیوں کر بچھائوں ؟ چند آنسو ہیں ،
جو ضمیر کی صدا کی سماعت سے عاری ہوتے ہیں وہ منقار زیر پر دفن ہوجاتے ہیں ۔جنہیں صدائوں کا ادراک ہوتا ہے وہ اپنے وجدان میں اٹھنے والی ذرا سی کسک پر تلملا اٹھتے ہیں ۔وہ استقلال کی رسی
آج جو حالات ہیں اور ان میں بھری تلخیاں ، ان کو مٹانے کے لئے صدیاں درکار ہوں گی اور ہمیں تو آزاد ہوئے ابھی ایک صدی نہیں ہوئی،ہم نے اپنے گرد مجبوریوں اور مقہوریوں کے ایک جال بن دیئے
انسان سارے خسارے اپنے اندر کی ہوا کی وجہ سے اٹھاتا ہے۔اپنے اندر کی ہوا نکال دیں خوشیاں آپ کی زندگی دائمی ہمسفر بن کے رہ جائیں گی۔ حکایت ہے کہ ایک اسکول نے اپنے طلبا کے لیے تفریحی سفر
جس قوم کے حکمرانوں کی آنکھوں کا پانی مرجائے اس قوم کا مرناجینا ایک ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں کی سفاکیت اور بے مروتی کی انتہا کیا ہوگی کہ ننگی پشت لئے سرزمین حجاز پہنچ گئے ۔قوم بھوک افلاس اور غربت
سپرنٹنڈنٹ پکارتا ہے۔ وقت ختم ہو چکا۔ میں سلاخوں کو پکڑتے ہوئے اسے کہتی ہوں۔ برائے مہربانی کوٹھڑی کا دروازہ کھول دو۔ میں اپنے پاپا کو چھو کر الوداع کہنا چاہتی ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ انکار کر دیتا ہے۔ پھر میں سلاخوں
(گزشتہ سے پیوستہ) حضور والامیں دراصل گٹر وغیرہ کی صفائی کرنے پر مامور ہوں، مجھے جاہل لوگ عرف عام میں چوڑا چمار، کمی کمین یا صفائی والا کہہ کر پکارتے ہیں لیکن اہل لکھنو نے اسلام کی عظیم روایات اور
یہ 1975-76ء کی بات ہے۔ میں گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان میں سال اول (سائنس) میں پڑھتا تھا ۔منیرچوہدری سال چہارم کے طالب علم تھے ۔ہم پر دانشورانہ رعب و دبدبہ ڈالنے کے لئے ان کی محدب عدسوں والی
آئین کاغذ کاایک ٹکڑا جسے آمر ضیاء الحق کی ذریت کے پائوں تلے سے ابھی تک نکالا نہیں جاسکا۔اس کے چھوڑے ہوئے دانت اتنے مضبوط ہیں آج تک وطن کا جسد پاک ان سے آزاد ہی نہیں کرایا جاسکا ،