Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

ایک لمحے کے رحم و کرم پر دنیا

دنیاکی تاریخ ہمیں بارباریہ سبق سکھاچکی ہے کہ طاقت،شہرت یاذاتی جذبات کے ہاتھوں کئے گئے فیصلے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پرنہ صرف اثرڈال سکتے ہیں بلکہ جلدبازی، غروراورذاتی رنجشیں انسانیت کے لئے قیامت کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ دنیا نے اکثردیکھاہے کہ ایک واحدشخص کے فیصلے،ایک لمحے کی جذباتیت،یاایک کم ظرف ردعمل کس طرح ہزاروں، لاکھوں،بلکہ کروڑوں انسانوں کی

قرآن کریم کا متن اور حدیثِ نبویؐ

(گزشتہ سے پیوستہ) ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ ‘‘ یہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں ہیں جو سب سے پہلے نازل ہوئی تھیں اور یہ بات ہر وہ مسلمان جانتا ہے جو تھوڑی بہت دین سے مناسبت رکھتا ہے۔ سوال یہ

بقاء اور انا کی جنگ

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عالمی سپر پاور ہے جس کے پاس بے پناہ عسکری طاقت، مضبوط معیشت اور عالمی اثر و رسوخ ہے، جبکہ دوسری جانب ایک قدیم تہذیب کا وارث ملک ہے جو معاشی دبائو، سفارتی تنہائی اور پابندیوں کے باوجود اپنے وجود اور نظریے کے تحفظ کے

ویٹو کی زنجیروں میں جکڑی عالمی پنچائیت

جب فکر میں اضطراب جنم لیتا ہے تو اس کے بطن سے انتشار پیدا ہوتا ہے، اور جب یہی انتشار دل و دماغ پر قابض ہو جائے تو انصاف اور ناانصافی کے درمیان امتیاز کی صلاحیت مدہم پڑنے لگتی ہے، یہاں تک کہ یہ سوال ہی غیر متعلق محسوس ہونے لگتا ہے کہ انصاف غالب آیا یا نہیں۔ اسی انسانی

سفارتی مذاکرات میں پاکستان کا کردار

عالمی سیاست کے پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں سفارت کاری کسی بھی ریاست کے لیے محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ اس کی بقا، ترقی اور عالمی وقار کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے اور پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو جغرافیائی لحاظ سے ایک نہایت حساس خطے میں واقع ہے ، سفارتی مذاکرات کی اہمیت اور بھی

بھرا رہے ترا کشکول…!

اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ ’’سعودی عرب نے پاکستان کے کشکول میں ایک ارب اور ڈالے ہیں ‘‘کشکول پھر بھر گیا۔ ایک ارب ڈالر کا تازہ قطرہ اس پیالے میں آن گرا جسے ہم نے برسوں سے قومی تقدیر کا استعارہ بنا رکھا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ رقم کس مد میں آئی

کالم پروفائل