Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

موجودہ تناظر میں عالمی طور پر ہمارا سب سے بڑا ٹکراؤ یہود سے ہے، تو آج ان کے حوالے سے بات ہوگی۔ یہودیت اس وقت تعداد کے لحاظ سے کوئی بڑا مذہب نہیں ہے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہیں۔لیکن اثر و رسوخ کے اعتبار سے، عالمی نظام میں مداخلت کے اعتبار سے، میڈیا اور معیشت پر کنٹرول کے حوالے سے یہودی

بلیو اکانومی، امکان سے حقیقت تک

انسانی تاریخ میں سمندر ہمیشہ سے تہذیب، تجارت اور طاقت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ قدیم مصر، یونانیوں اور مسلمانوں کی بحری روایات اس بات کی گواہ ہیں کہ ساحل اور سمندر نے قوموں کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔برصغیر میں بھی قدیم بندرگاہیں، بحری راستے اور سمندری تجارت معاشی خوشحالی کا ذریعہ رہی ہیں۔ اسی تاریخی سفر کے

مصنوعی ذہانت کے تناظر میں نوجوانوں کا سفر

ابتداء میں انسان نے زراعت اور کھیتی باڑی ایجاد کی، پھر پہیہ، لہٰذا مقامی اور دور دراز کے لوگوں کے درمیان مواصلات اور تجارت ممکن ہوئی، علمِ ریاضی، فلکیات اور فلسفہ جیسے علوم نے انسان کے ذہن کو جستجو، تنقیدی سوچ اور منطقی تجزیے کی جانب راغب کیا۔صنعتی انقلاب نے مشینری اور توانائی کے نئے نظام متعارف کرائے جس نے

ایران پر امریکی حملہ کیوں رکا؟

مشرق وسطیٰ میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کاتھیٹرتیارتھالیکن یہ تصادم آخری لمحات میں ٹل گیا، خطرہ اگرچہ مکمل ختم نہیں ہوا لیکن اس کا ٹل جانا ہی بڑی کامیابی ہے اور کامیابی کی چند دیگر اہم ترین وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیراورسعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کی مصالحانہ کاوشیں

بنگلہ دیش کے خلاف بھارتی تعصب کا نیا جنم اور دو قومی نظریہ

جنوبی ایشیاء کی حالیہ صورتحال کافی تشویش ناک ہے۔ ریاست کے ایوانوں سے لے کر کھیل کے میدانوں تک ہندوتوا سوچ تقویت پاتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کے بعد بھارتی تعصب کا نشانہ اب بنگلہ دیش ہے۔ آج سے تقریباً ساڑھے پانچ دہائیاں قبل سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر اندرا گاندھی نے تکبر بھرے لہجے میں یہ دعویٰ کیا

عصرِ حاضر کی جنگیں اور نظمِ ریاست کا چیلنج

(گزشتہ سے پیوستہ) کولمبیاکے صدرکودھمکی،میکسیکوکے بارے میں نشاندہی،ہیٹی کوانتباہ ،یہ الفاظ نہیں،پالیسی کے سائے ہیں۔طاقت جب گفتگوسے انکارکردے توسفارت گری کاچراغ مدھم پڑجاتاہے اوراندیشے گہرے ہوجاتے ہیں جس کابالآخرانجام قوموں کی تباہی کے سوااورکچھ نہیں ہوتا۔ہیٹی میں حکومت کی تبدیلی بندوق کے سائے میں ہوئی۔گولیاں کم چلیں،مگر آنسوبہت بہے۔30برس گزرے مگرخوشحالی ابھی مقروض ہے۔یہ مثال وینزویلا کے لئے بھی ایک

کالم پروفائل