Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

حکومت،اپوزیشن مذاکرات:مفاہمتی کوشش یااقتدارکا کھیل؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذاکرات کالفظ ہمیشہ امیداوربدگمانی کےدرمیان معلق رہا ہے۔ یہاں مکالمےاکثراُس وقت شروع ہوتےہیں جب سیاسی درجۂ حرارت حدِ انتہا کو پہنچ چکا ہو، ادارے دباؤ محسوس کررہے ہوں،معیشت کی نائو ہچکولے لےرہی ہواورعوام بےیقینی کے اندھیروں میں راستہ تلاش کررہےہوں مگرالمیہ یہ ہےکہ ہمارے ہاں مذاکرات کی روایت کبھی قومی مفاہمت کی مضبوط بنیادنہیں بن

سانحہ چرار شریف،راکھ کی کہانی، روح کی آگ

اے وادیٔ کشمیر! اے زخموں کی سرزمین! تیرے سینے پر لگنے والے یہ گہرے زخم کبھی بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ تیس سال بیت گئےمگرجب بھی مئی کی وہ تاریک اورالمناک راتیں یادآتی ہیں توچرار شریف کی ہوا میں اب بھی جلتی ہوئی راکھ کی بواٹھتی ہے۔ 10 اور 11 مئی 1995 کی درمیانی شب جب پوری دنیاعید کی خوشیوں

خاموش سفارت کاری کی پسِ پردہ کہانی

(گزشتہ سےپیوستہ) مگرتاریخ کامزاج بھی ایک بے قرارشاعرکی مانند فکرمیں مبتلاہے،وہ کسی ایک مصرعے پرٹھہرتانہیں۔ جولمحہ سب سے زیادہ یقینی دکھائی دیتاہے،وہی اکثرسب سے زیادہ لغزش آمادہ ہوتاہے۔وہ میز،جوایک معاہدے کی گواہ بننے والی تھی،خاموشی سے اٹھالی گئی۔یوں لگا جیسے ایک مکمل ہونے والی غزل کاآخری شعرکسی نے اچانک مٹادیاہو۔مگرکیاواقعی کہانی ختم ہو گئی؟یایہ محض ایک وقفہ تھا،ایک ایساوقفہ جس

فہم قرآن کے دو صحیح راستے

قرآن کے حوالہ سے بیسیوں پہلو ہیں جن کے بارے میں عرض کیا جا سکتا ہے اور ان کی ضرورت بھی ہے لیکن آج میں صرف اس ایک پہلو پر گزارش کروں گا کہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھتے ہوئے کسی تفسیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یا درس سنتے ہوئے قرآن کریم کی کسی آیت کے مفہوم کے بارے میں

بدبودار سسٹم کے ڈھیر پہ انمول پنکیاں ؟

جب تک پاکستان میں بوسیدہ اور بدبودار نظام رائج رہے گا اس وقت تک “انمول پنکیاں”قوم کے بچوں اور بچیوں کو نشے میں غرق کرتی رہیں گی،کہیں میرا جسم میری مرضی والی آنٹی شیما کرمانی اور کہیں کو کین گرل انمول پنکی؟24کروڑ انسانوں پر مشتمل اسلامی جمہوریہ پاکستان نظام اسلام کے نفاذ کے لئے ترس رہا ہے, ہر کوئی کان

برطانیہ کا بدلتا منظرنامہ اور مسلمانوں کی ذمہ داری

برطانیہ اس وقت ایک ایسے تاریخی اور فکری موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی، سماجی اور ثقافتی تبدیلیاں بیک وقت نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ بریگزٹ کے بعد قوم پرستی محض ایک وقتی ردعمل نہیں رہی بلکہ ایک منظم سیاسی بیانیہ بن چکی ہے۔ “ریفارم یوکے” جیسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور بریڈفورڈ، برمنگھم، لیسٹر اور اولڈہم کے

کالم پروفائل