Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

واشنگٹن اورنئی دہلی کےدرمیان بڑھتی ہوئی خلیج

(گزشتہ سے پیوستہ) صدرٹرمپ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ہند-امریکہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا گیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی صدارت کے آغاز میں اسلام آباد پر سخت تنقید کی تھی، مگر 2019 ء کے وسط تک اُن کالہجہ خاصانرم ہوچکاتھا،خاص طورپرجب پاکستان نےافغانستان میں امریکہ- طالبان امن مذاکرات میں کردار ادا کیا۔ جولائی 2019ء میں عمران خان کے دورہ

فلسطین، استقامت سے ریاست تک

(گزشتہ سے پیوستہ) خلیجی ممالک پردبامیں اضافہ کرکے سعودی عرب،عمان،قطرجیسے ممالک پرزوربڑھایاجائے گاکہ وہ اسرائیل سے تعلقات بحال کریں تاکہ یورپ اوردیگر ممالک کی طرف سے فلسطین کوتسلیم کرنے کا’’اثر‘‘زائل ہو۔ امریکافلسطین کے معاملے پرخلیجی ممالک سعودی عرب،عمان،قطرپردبابڑھائے گاکہ وہ فلسطین کے حق میں بیانات سے گریز کریں اسرائیل سے تعاون جاری رکھیں(بالخصوص انٹیلی جنس،سائبرٹیک، ہتھیار) اورفلسطینی مزاحمت پرکھل کرتنقیدکریں

لندن سے ایک خط جاوید اختر اور جہنم

(گزشتہ سے پیوستہ) اب سے پہلے تک پاکستانیوں کی بڑی تعداد انہیں دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی، امن اور اردو کا سفیرسمجھتی تھی،انہیں ایک متوازن انسان اور زبان و تہذیب کا علمبرار تصور کرتی تھی، پاکستان کو جہنم سے بدتر قرار دے کر انہوں نے پاکستانیوں میں اپنے وقار اور احترام کی مٹی خود پلید کر دی ہے۔ گزشتہ

پنجاب حکومت گڈ گورنس یانمائشی حکمرانی

انسانی تاریخ درحقیقت تہذیبوں کے عروج و زوال کی تاریخ ہے اور اس کی ہر منزل پر ایک سوال ہم سے بارہا سرگوشی کرتا ہے، ترقی کیا ہے؟ کیا یہ صرف بلند و بالا عمارات، شاہراہیں اور انڈسٹریل زونز کی تعمیر کا نام ہے؟ یا ترقی کا مفہوم کہیں زیادہ وسیع، عمیق اور انسان مرکز ہے؟ ابتدائے تاریخ سے لے

مصنوعی ذہانت ،کرپشن اور ناانصافی کے خاتمے کا الٰہی منصوبہ

انسانی تاریخ ہمیشہ سے حرص، تکبر اور استحصال کے اندھیروں میں ڈوبی رہی ہے۔قدیم سلطنتوں سے لےکر جدید ریاستوں تک، طاقت اکثر غلط استعمال ہوئی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع رہی جبکہ کمزور طبقات ہمیشہ دبے رہے۔اس کا نتیجہ واضح ہے۔ کرپشن، ناانصافی اور ایک ظالمانہ نظام جو کمزور کو پھنساتا ہے، طاقتور کو تحفظ دیتا ہےاور مساوات کے

واشنگٹن اورنئی دہلی کےدرمیان بڑھتی ہوئی خلیج

2000 کی دہائی کےاوائل سےہند- امریکہ تعلقات کوعموماً بڑھتےہوئےتزویراتی اشتراک کی علامت کےطورپردیکھاجاتارہاہے،خاص طورپر دفاعی تعاون،تجارت اورچین کےابھار پر مشترکہ تشویش جیسےشعبوں میں۔ تاہم صدرڈونلڈٹرمپ کےدورِحکومت (2017–2021) میں یہ تعلقات متعدد غیرمتوقع نشیب و فراز، سفارتی سردمہری کے لمحات اورخاص طور پر امریکی جانب سے برملا عدم اطمینان کے اظہار کا شکار ہوئے۔ دنیاکی دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان’’قدرتی اتحاد‘‘

کالم پروفائل