Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

جب عدل خاموش ہوجائے،توتاریخ چیختی ہے

(گزشتہ سے پیوستہ) اورجب اس ظلم پرامریکاجیسے مدعیانِ تہذیب وتمدن خاموش رہیں،بلکہ اپنے اسلحہ واثرسے اس ظلم کی آبیاری کریں، اورجب اس ظلم پر امریکہ خاموش نہیں بلکہ سرگرمِ تعاون ہو، اسلحہ مہیا کرے، دفاعی قراردادوں کو ویٹو کرے، اوراسرائیل کی ہردرندگی کو ’’حقِ دفاع‘‘ کانقاب پہناکرعالمی ضمیر کو دھوکہ دے،توپھریہ صاف ظاہرہوتاہے کہ دنیااب دوواضح کیمپوں میں بٹ چکی

بوسنیا، غزہ، اور ضمیر کی موت

ایک ایسی دنیا میں جہاں نایاب جانوروں کو بچانے کی مہمات اور جانوروں پر ظلم کے خلاف احتجاج چند گھنٹوں میں عالمی حمایت حاصل کر لیتے ہیں، وہاں مسلمانوں کے بے رحم قتلِ عام پر مسلسل خاموشی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے،چاہے وہ 1990 ء کی دہائی میں بوسنیا ہو یا آج کا غزہ۔ وہی معاشرے جو جانوروں

جرائم کا تدارک اسلام کی روشنی میں

کرئہ ارض پر حضرت آدم علیہ السلام کی آمد انسان کی پہلی بھول کا نتیجہ تھی۔ اس بھول پر بہشت بریں سے نکلنا انسان کی پہلی سرزنش تھی۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا کبھی بھول سے‘ کبھی کسی کے ورغلانے سے‘ کبھی نفس کے ہاتھوں عاجز ہو کر‘ کبھی طاقت و غرور کے نشے میں مست ہو کر اور

سرکاری ڈالا کلچر اور دھول میں لپٹے تاجدار

رفیقِ محفل نے رسوا کر دیا۔ یعنی جسے قوم نے خدمت کا مینڈیٹ دیا وہی تخت پر بیٹھ کر تماشہ بن گیا۔جب بندہ چھوٹا ہو اور کرسی بڑی تو ایسی ہی توازن بگڑتی دنیا سامنے آتی ہے جہاں ڈالا کلچر محض سماجی رویہ نہیں ایک بیماری بن چکا ہے۔ جرم کو روکنے نکلنے والے خود نظام کا جرم بن چکے

یوم استحصال: کشمیر پر ظلم کی چھاپ

پانچ اگست کا دن پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے دلوں پر ایک گہرا زخم چھوڑ جانے والے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے ناجائز تسلط کو مضبوط کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرتے ہوئے یکطرفہ اور غیر قانونی

ڈونلڈ ٹرمپ کی مہربانی سفارتی چال یا وقتی ضرورت؟

بین الاقوامی تعلقات جذبات سے نہیں، مفادات سے جڑتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کی کہانی بھی انہی مفادات کی کشمکش سے عبارت ہے۔ وقتا فوقتا امریکہ نے پاکستان کو اہم اتحادی کہا، اربوں ڈالرز دئیے، لیکن موقع ملتے ہی قربانی کا بکرا بھی بنا ڈالا۔ یہی متضاد رویہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں اپنے عروج

کالم پروفائل