Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

پاکستان کے پانچ بڑے

نئے سال کے آغاز پر جب پوری قوم امیدوں اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی آرزو کرتی ہے تو پاکستانی سیاست میں بھی ایک اہم تبدیلی کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے حال ہی میں ایک بیان دیتے ہوئے ملک کی سیاسی صورتحال

عدل کا بنیادی تصور کیا ہے؟

انصاف کسی بھی معاشرے میں توازن، مساوات، اخلاقیات اور عدل کا بنیادی تصور ہے۔ جس کا مطلب ہر ایک کو اس کا حق دینا،ظلم سے پرہیز اور عدل قائم کرنا ہے۔یہ صرف عدالت یا عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا اطلاق ضروری ہے۔ انصاف کا سب سے احسن عمل ہے جبکہ ظلم کی

انسانیت کا نیا دور

آج انسانیت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جو محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ انسانی شعور، شناخت، اقدار، تعلقات اور مقصدِ حیات کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ یہ دور بجا طور پر جنریشن زیڈ کا دور کہلاتا ہے ایک ایسی نسل جو روایتی معاشرت سے بڑی حد تک منقطع مگر ڈیجیٹل دنیا، رفتار اور مصنوعی ذہانت سے گہرے طور پر

تدبیر کا زوال، تقدیر کا ظہور

(گزشتہ سے پیوستہ) عینی ایئربیس کی خالی ہونے کی خبرپرکانگریس نے حکومتِ وقت کوآڑے ہاتھوں لیا۔ان کے مطابق یہ فیصلہ سٹریٹجک ناکامی اور سفارتی پسپائی ہے۔ان کے بیانات سے واضح ہوا کہ انڈیاکے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی یہ فیصلہ قوم کی دفاعی کمزوری سمجھاجا رہاہے۔ تجزیہ کارراہول بیدی کے مطابق یہ بیس انڈین فضائیہ اوربارڈر روڈز آرگنائزیشن کامشترکہ منصوبہ

قوموں کا عروج و زوال ۔۔ قرآن کی نظر میں

قوموں کا عروج و زوال کوئی اچانک رونما ہونے والا حادثہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک طویل اخلاقی، روحانی اور سماجی عمل کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔ تاریخ بظاہر اسے سیاسی سازشوں، معاشی بحرانوں یا فوجی شکست و فتح کے تناظر میں بیان کرتی ہے۔ مگر قرآنِ مجید اس پورے عمل کو ایک اٹل الٰہی قانون کے طور پر پیش

اصلاحاتی اقدامات، روشن امکانات

پاکستان میں جہاں تاریخ نےباربارنظامِ حکومت، ریاستی ڈھانچے اور ادارہ جاتی کارکردگی کو آزمائشوں کے مراحل سے گزارا، وہاں آج بنیادی سوال یہی ہے کہ ریاستی ادارے کس حد تک بدل رہےہیں، سنجیدگی کے ساتھ اصلاحات کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہ کوششیں کس قدر عوامی زندگی پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا

کالم پروفائل