Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

سیاسی اتحاد یا مکڑی اور جالے کا کھیل

پاکستانی سیاست میں ہمیشہ سیاسی اتحاد وقتی ضروریات کے تحت بنتے اور بکھرتے رہے ہیں، مگر نظریاتی اتحاد ناپید رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)اور پاکستان مسلم لیگ (ن)(پی ایم ایل این) دونوں کی اپنی اپنی نظریاتی بنیادیں الگ ہیں۔پی پی پی کا نعرہ ’’روٹی، کپڑا، مکان‘‘ اور ترقی پسند جمہوریت رہا ہے،جبکہ مسلم لیگ (ن) کی بنیاد کاروباری و

آئین‘ جمہوریت اور بلدیاتی ادارے

اردو میں سے جسے‘ نظام اور انگلش میں جسے سسٹم‘ کہا جاتا ہے وہ بھی آئین اور جمہوریت کی طرح ایک بے معنی اور لاحاصل حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ نظام‘ سسٹم‘ جمہوریت اور آئین بس اب کتابوں‘ باتوں‘ بحث مباحثوں اور ٹائم پاس کرنے کے لئے ہی رہ گئے ہیں۔ کہیں بھی جمہوریت دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی

انسانی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی

انسانی تاریخ میں سب سے شرمناک حقیقتوں میں سے ایک انسانی اسمگلنگ ہے جو نہ صرف فرد کی آزادی اور وقار کو چھین لیتی ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔ دنیا بھر میں اس مکروہ دھندے نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بھی اس ناسور سے بری طرح

جتھوں کا قانون

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جتھوں کے ذریعے فیصلے منوانے کی روایت نے معاشروں کو بربادی، تقسیم اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا ، کراچی میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے ، جس نے روشنیوں کے شہر کراچی کو بربادی کے گھاٹ اتارنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، صوبائی

عہد نوکاسنگِ میل

(گزشتہ سے پیوستہ) مختصریہ کہ چابہارسے متعلق امریکی اقدام نے ہندوستان کو مادی،اسٹریٹجک اورسفارتی طورپرنقصان پہنچانے کاامکان بڑھادیاہے اوریہی وہ مقام ہے جہاں دہلی کی منصوبہ بندی کودوبارہ ورق وار کرنالازمی ہو جاتاہے کہ مودی کے دہرے کردارپرکیسے پردہ ڈالا جائے۔ میڈیارپورٹس،جوحالیہ دنوں میں آئیں،اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شہبازشریف اور ٹرمپ کےدرمیان اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے

فلسطین بحران اور عالمی طاقتوں کی حکمت عملی

فلسطین کا مسئلہ صدیوں پرانا ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں یہ ایک ایسا عالمی بحران بن چکا ہے جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست، اقتصادیات اور انسانی حقوق کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب محض عرب، اسرائیل تنازعہ نہیں رہا، بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات، حکمت عملی اور جیوپولیٹیکل کھیل کا محور بن چکا

کالم پروفائل