جب عدل خاموش ہوجائے،توتاریخ چیختی ہے
(گزشتہ سے پیوستہ) آج امت مسلمہ ایک دوراہے پرکھڑی ہے۔ایک طرف قومی مفادات،وقتی معاہدے اوراقتصادی وابستگیاں ہیں،تودوسری طرف امت کا اجتماعی ضمیر،عقیدہ،نظریہ اوربقا۔اگر اب بھی ہم نے خاموشی اختیارکی،توکل ہمارے شہروں میں وہی دشمن ہماری ہی صفوں سے ہماری بنیادوں کو کھوکھلاکرتادکھائی دے گا۔ اب وقت آگیاہے کہ عالم اسلام،خاص طور پرخلیجی قیادت،اس گٹھ جوڑکے خلاف ایک واضح، دوٹوک اورمتحدموقف