Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

بارشوں کی تباہی سے بے حسی کی سیاست تک

بارش جو کھیتوں کے لئے رحمت اور پیاسی زمین کے لیے زندگی کا پیغام ہوتی ہے اس بار خیبرپختونخوا گلگت بلتستان اور کشمیر کے باسیوں کے لیے قہر بن گئی۔ پہاڑوں سے اترنے والے سیلابی ریلے بستیاں بہا لے گئے، کھیت اجاڑ گئے اور سینکڑوں زندگیاں لمحوں میں موت کے حوالے ہو گئیں۔ صرف خیبرپختونخوا میں چار سو سے زائد

حکمتِ عملی، جنگ اور امن کا فلسفہ

(گزشتہ سےپیوستہ) پاکستان نے اس کے مقابل تین سطحی حکمت عملی اپنائی ہے۔الیکٹرانک وارفیئر، ریڈیو فریکونسی جیمنگ اوراسپووفنگ کے ذریعے دشمن کے ڈرون کو ’’اندھا‘‘ کردینے، کاؤنٹرڈرون سسٹم جس میں چھوٹے فاصلے کے اینٹی ڈرون ہتھیار، جوفضامیں ڈرون کومار گرائیں اور ملٹی لیئر ایئرڈیفنس حملے،درمیانے اورکم فاصلے کی دفاعی پرتیں، جوڈرون یامیزائل کوقریب آنے سے پہلے تباہ کردیں کی کاروائیوں

یوم آزادی پر دشمن کا جھنڈا لہرانے والے کون ہیں؟

کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ منظر بیرونِ ملک کے کسی شہر کی سڑک کا تھا، جہاں سمندر پار پاکستانیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ چودہ اگست کے موقع پر یومِ آزادی کی تقریب منانے کے نام پر جمع تھا۔ بظاہر یہ جشنِ آزادی دکھائی دیتا تھا مگر درحقیقت ایک احتجاجی جلوس کا

این ڈی ایم اے… کاغذی دفاع یا عوامی خدمت؟

یہ وطن بار بار امتحانوں سے گزرتا ہے۔ کبھی زلزلے کی صورت میں زمین لرزتی ہے، کبھی سیلاب کی شکل میں دریا بپھرتے ہیں، کبھی طوفانی بارشیں بستیاں بہا لے جاتی ہیں اور کبھی پہاڑی تودے انسانوں کو زندہ دفن کر دیتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ ہم نے ان آفات سے نمٹنے کے لئے جن اداروں کو اربوں

شہید مدنی مسجد اور چوہے بلی کا حکومتی کھیل

اس خاکسار کا تو روز اول سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا مذہبی فسا دات ان کے پیچھے ہمیشہ حکومتوں کا ہاتھ اور کردار رہا ہے، اب اسلام آباد کو ہی دیکھ لیجئے کہنے کو یہ پاکستان کا دارالحکومت ہے اور ایک انتہائی پرامن شہر سمجھا جاتا ہے، لیکن حکومت کو نہ جانے کیا

جشن آزادی 2025 کی تقریبات

انجینئر محمد جاوید یوم جشن آزادی پاکستان کا استعارہ ہیں۔ وہ پاکستان میں ہوں یا متحدہ عرب امارات، ہر سال یوم پاکستان باقاعدگی سے مناتے ہیں۔ اگست کا پہلا ہفتہ انہوں نے لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں یوم آزادی اور معرکہ حق کی تقریبات میں شرکت کرتے گزارا اور 12 اگست کو واپس راس الخیمہ پہنچے تو انہوں نے

کالم پروفائل