Search
Close this search box.
جمعرات ,16 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

(گزشتہ سے پیوستہ) مغرب نے آزادیٔ رائے اور حکومت کی غلط پالیسی پر اسے ٹوکنے کو فرائض کے زمرہ سے نکال کر حقوق کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ یہ ایک اختیاری امر بن گیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’حقوق‘‘ کے تصور نے اقتدار اور اپوزیشن کی صف بندی کر

کردار کاغازی

ہر شہر کی ایک آواز ہوتی ہے۔ کہیں یہ آواز پرندوں کے شور میں گھل جاتی ہے، کہیں گاڑیوں کے ہارن میں اور کہیں انسانوں کی خاموشی میں۔ خاموشی بھی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ اس بے اعتنائی کا دوسرا نام بن جاتی ہے جہاں دوسروں کے دکھ کو اپنا مسئلہ ماننے سے انکار کر دیا

علماء،مشائخ ،شیوخ الحدیث کا تاریخی اجلاس

(گزشتہ سے پیوستہ) اجلاس میں شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ پہلی گزارش یہ ہے کہ الحمدللہ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس قافل حکمت و عزیمت کا حصہ بنایا جو دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، اور بعد میں پھر شیخ الہندؒ ، حضرتِ

دیمک کہانی

نہ جگنو کی سی پرنور ادا ، نہ تتلی جیسے خوش رنگ پنکھ، نہ طائوس جیسی شوقِ خود نمائی، اور نہ کوئل جیسی نغمہ سرائی، نہ طاقتِ پرواز اور نہ ہی حسرتِ پرواز۔ روشنیوں سے دورگہری تاریکیوں میں رہنے والی دیمک دراصل کارخانہ قدرت میں موجود ماورائے عقل تخلیقات میں سے ایک ہے جسے اس کی منفرد خاندانی نظام زندگی

غریب کے خوابوں کا ملبہ

لاہور کی ایک تنگ گلی میں واقع ایک معمولی سا مکان تھا۔ چھت کمزور تھی اور بوجھ برداشت نہیں کر پائی۔ ایک لمحہ تھا کہ دھڑام کی آواز آئی اور پوری چھت گر کر ریزہ ریزہ ہو گئی۔ ملبے تلے وہ بچے دب گئے جنہوں نے ابھی زندگی کو سمجھنا بھی شروع نہیں کیا تھا۔ کوئی معصوم بچی اپنی گڑیا

نئے اتحاد۔۔۔۔پرانے خدشات

(گزشتہ سےپیوستہ) اکتوبر2023ء کے واقعات نے اس تعلق کوایک نئی معنویت عطاکی۔جب خطہ ایک بارپھر جنگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط نمایاں تھی،مگربھارت کی جانب سے فوری حمایت نے اس بات کوواضح کردیاکہ یہ تعلق محض رسمی نہیں بلکہ گہرا اور دیرپاہے۔اس تعلق کی بنیادیں صرف جذباتی یانظریاتی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی گہری پیوست ہیں ۔

کالم پروفائل