Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

سرحدوں کا احتساب، کشمیر کا نامکمل فیصلہ

اقوام کی تاریخ محض واقعات کی گرد نہیں ہوتی بلکہ وہ زمان ومکان کے سینے پرلکھی ہوئی ایک زندہ دستاویزہوتی ہے،ایسی دستاویز جس میں سیاست کے نشیب وفراز،جغرافیے کی سنگلاخی،اورتہذیبوں کی کشمکش ایک دوسرے میں یوں پیوست ہوجاتی ہیں جیسے دریا اپنے کناروں سے۔برصغیرکی تاریخ محض واقعات کاانباراورسلسلہ ہی نہیں بلکہ تہذیبوں کے تصادم، مفادات کی کشمکش اورجغرافیے کے سینے

سرحدوں کا احتساب، کشمیر کا نامکمل فیصلہ

(گزشتہ سے پیوستہ) برطانوی حکام نے وقتافوقتامختلف سرحدی لکیریں تجویزکیں مگر چین نے کبھی ان کوتسلیم نہیں کیاکیونکہ ان میں سے کوئی بھی چین کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے ذریعے طے نہ ہوسکی۔یہی وجہ تھی کہ چین نے ان تمام لکیروں کویکسرمستردکر دیا۔ جب1947ء میں برطانوی راج کاخاتمہ ہواتواکسائی چن کی سرحدغیرواضح اورایک معمہ بنی ہوئی تھی۔یہ ایک ایساعلاقہ تھاجس

گیند کی سلائی سے امن کی بنائی تک

ایک ایسی دنیا میں جو اکثر سیاست، جغرافیے اور باہمی مفادات کے تضادات کے باعث تقسیم در تقسیم دکھائی دیتی ہے، چند ہی ایسی قوتیں ہیں جو انسانیت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ فٹ بال انہی نادر قوتوں میں سے ایک ہے۔ بعض ممالک اسے ساکر کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے

نسلِ نو، عقیدہ ختم نبوت ؐ اور تحفظ ناموسِ رسالتؐ

آج کا دور معلومات کی فراوانی کا دور ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے سے خبر، رائے، نظریہ یا فکر ہمارے موبائل فون کی اسکرین پر موجود ہوتی ہے۔ اس تیز رفتار زمانے میں جہاں علم کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہیں فکری انتشار اور عقائدی گمراہی کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل

عاصم منیر، ایران کیلئے نجات دہندہ

جنگیں لڑنا بلاشبہ بڑے دل گردے کی بات ہوتی ہے، لیکن دو انتہائی سخت گیر ممالک کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کیلئے فریقین کو کسی ثاتفاق رائے پر لانا اس سے بھی زیادہ حوصلے، صبر و استقامت اور تحمل و بردباری کا کھیل ہے اور پاکستان نے یہ کھیل جیت لیا ہے، جہاں ایک طرف ایران امریکہ امن ڈیل

مصنوعی ذہانت (AI) کا ظہور اور انسانی آزادی

کامیابی کی تعریف ایک عرصے سے ایک کھوکھلی تلاش بن چکی ہے، ایک ایسی دوڑ جس کی اختتامی لکیر صرف انسانی روح کی تھکن ہے۔ جب میں لندن میں ایک وکیل کے طور پر اپنے سفر پر نظر ڈالتا ہوںجہاں میں نے پیشہ ورانہ بلندیوں کو چھوا، تمام مالی آسائشیں حاصل کیں، لیکن 47سال کی عمر میں مجھے ایسا محسوس

کالم پروفائل