Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

برطانوی استعمار اور برصغیر کا دینی تعلیمی نظام

(گزشتہ سے پیوستہ) دوسری بات کہ اس سیمینار کے ذریعے حضرت مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب اور ان کے رفقاء آج کی دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ میں بھی ان کے رفقاء میں ہوں۔ ہم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ذکر کر رہے ہیں، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا نام لے رہے ہیں، اور اُس دور کے

مولانا فضل الرحمن کا بیانیہ، وطن سے وفاداری

حالیہ دنوں میں ایک بیان سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے جو جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے منسوب ہے اور جسے مختلف پلیٹ فارمز خصوصاً Focus Media نے بھی نشر کیا،مولانا فضل الرحمن، سید سلمان گیلانی ؒ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میں حکومت سے لڑتا

افغان سرزمین، دہشتگردی اور بلوچ خواتین کا استحصال

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سےجنگ، بدامنی اور ریاستی کمزوری کا شکار رہا ہےاور یہی صورتحال اب ایک سنگین علاقائی سلامتی کے مسئلے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ زمینی حقائق اور سکیورٹی رپورٹس بارہا اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی ، داعش ، بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسےمسلح اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے

سیاست برائے خدمت یا انتشار

سیاست برائے خدمت کا تصور ہماری سیاست سے ناپید ہو چکا ہے۔مطالعہ کریں تو سیاست کی تاریخ قدیم یونانی ریاستوں (ایتھنز)سے شروع ہو کر جدید دور کی پارلیمانی سیاست،ڈکٹیٹر شپ اور بادشاہت پر محیط ہے۔سیاست کا یہ ارتقائی سفر ریاست،سیاست نظریات اور اسلامی و مغربی حکومتوں کے گرد گھومتا ہے۔جس میں اقتدار کی تقسیم اور عوامی حقوق بنیادی موضوعات رہے

نیا پاکستان پرانے اوزار

وہ جن پہ تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگے۔ یہ محض ایک مصرع نہیں یہ پاکستان کی سیاست کا وہ نوحہ ہے جو ہر دور میں نئے سروں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر عادتیں نہیں نعرے بدلتے ہیں مگر نیتیں نہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں اصول نہیں جوڑ

نئے عالمی نظام کی پہلی گونج

عین قرینِ قیاس ہے کہ امریکا،اسرائیل اورایران کے مابین برپاحالیہ کشمکش کواس نوخیزعالمی نظام کی اولین بڑی تمہیدی جنگوں میں شمارکیاجائے جوابھی اپنی ہیئت وماہیت متعین کرتے ہوئے اپنی فکری اورعملی تشکیل کے مراحل سے گزررہاہے۔ تاریخ کاچلن یہ رہاہے کہ جب بھی عالمی طاقت کا توازن بدلتاہے تواس کی تمہیدمیدانِ جنگ میں لکھی جاتی ہے، اوراس کامقدمہ سفارت کے

کالم پروفائل